Wa`adal laahulmu` mineena walmu`minaati Jannaatin tajree min tahtihal anhaaru khaalideena feehaa wa masaakina taiyibatan fee Jannnaati `adn; wa ridwaanum minal laahi akbar; zaalika hual fawzul `azeem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
خدا به مردان مؤمن و زنان مؤمن بهشتهايى را وعده داده است كه جويها در آن جارى است، و بهشتيان همواره در آنجايند و نيز خانههايى نيكو در بهشت جاويد. ولى خشنودى خدا از همه برتر است كه پيروزى بزرگ، خشنودى خداوند است.
خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
جَنَّاتٍ: باغات، جنتیں۔
تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ: جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔
خَالِدِينَ: ہمیشہ رہنے والے۔
مَسَاكِنَ طَيِّبَةً: پاکیزہ اور خوبصورت رہائش گاہیں۔
جَنَّاتِ عَدْنٍ: ہمیشگی کے باغات، جو قیام پذیر رہنے والی جنت ہے۔
رِضْوَانٌ: رضا، خوشنودی۔
الْفَوْزُ الْعَظِيمُ: بہت بڑی کامیابی۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں اور مومن عورتوں سے ایک عظیم وعدہ فرمایا ہے، جو اس کی سچی اور پکی بات ہے، کیونکہ اللہ کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا۔ وہ وعدہ یہ ہے کہ انہیں ایسی جنتیں عطا کی جائیں گی جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، نہ انہیں موت آئے گی اور نہ ان کا نعمت کا سلسلہ ختم ہوگا۔ اس کے علاوہ انہیں پاکیزہ اور عمدہ رہائش گاہیں ملیں گی، جو ہمیشگی کے باغات (جنت عدن) میں ہوں گی، جہاں کی ہر چیز ان کی خوشی اور سکون کا باعث ہوگی۔
لیکن ان سب نعمتوں سے بڑھ کر اور ان سب سے زیادہ اہم چیز اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہے۔ اللہ کا رضوان (رضا) ان تمام جنتی نعمتوں سے کہیں بڑا اور افضل ہے، کیونکہ جنت کی نعمتیں تو مخلوق ہیں، لیکن اللہ کی رضا اس کی ذات سے جڑی ہوئی ہے، اور یہی وہ چیز ہے جس کی مومن کو سب سے زیادہ تمنا ہونی چاہیے۔ یہی وہ عظیم کامیابی ہے جو کسی اور کامیابی سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی، کیونکہ دنیا کی کامیابیاں محدود اور عارضی ہیں، جبکہ یہ کامیابی ابدی اور لازوال ہے۔
دعوتی پہلو:
میرے پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا سوچیں، اللہ رب العزت نے اپنے مومن بندوں کے لیے کتنی بڑی خوشخبری سنائی ہے۔ وہ نہ صرف ہمیں جنت کی نعمتیں عطا کرے گا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اپنی رضا اور خوشنودی سے نوازے گا۔ یہ وہ مقام ہے جس کے لیے ہمیں اپنی زندگیاں صرف کر دینی چاہئیں۔ ایمان لاؤ، نیک عمل کرو، اور اس وعدے پر یقین رکھو، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ یہی وہ فوز عظیم ہے جس کے لیے ہمیں دنیا کی ہر چیز کو قربان کر دینا چاہیے۔ آئیے، ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اس عظیم کامیابی کے حصول کے لیے کوشاں رہیں۔
کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے۔ اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے
یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پاسکے۔ اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کون سا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولت مند کر دیا ہے۔ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور اگر منہ پھیر لیں تو ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دے گا اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔