اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو۔ اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانہ دورخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو، اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور وہ بہت برا انجام ہے۔
معانی الفاظ:
جَاہِدِ: محنت اور کوشش کرو، جنگ کرو
الْکُفَّارِ: وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں
الْمُنَافِقِیْنَ: وہ لوگ جو ظاہر میں ایمان لاتے ہیں مگر دل میں کفر رکھتے ہیں
وَاغْلُظْ: سختی کرو، شدت سے پیش آؤ
مَأْوَاهُمْ: ان کا ٹھکانہ
الْمَصِیرُ: انجام، بازگشت کی جگہ
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو دو قسم کے لوگوں سے جہاد کا حکم دے رہے ہیں۔ پہلے کافروں سے جہاد، جو اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں اور کھلم کھلا اسلام کے خلاف صف آرا ہیں۔ ان سے جہاد تلوار کے ذریعے کیا جاتا ہے، یعنی ان کے خلاف مسلح جدوجہد کی جاتی ہے۔ دوسرے منافقین سے جہاد، جو ظاہر میں مسلمان بنے ہوئے ہیں لیکن دل میں کفر رکھتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف خفیہ سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ ان سے جہاد زبان، دلیل اور حجت کے ذریعے کیا جاتا ہے، یعنی ان کے نفاق اور سازشوں کو بے نقاب کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ دونوں گروہوں پر سختی کریں، نرمی نہ برتیں، کیونکہ یہ لوگ سختی ہی کے مستحق ہیں۔ ان کی ضد اور عناد کو ختم کرنے کے لیے سختی ضروری ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے انجام سے آگاہ کیا کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، جو انتہائی برا ٹھکانہ ہے۔ یہ وعدہ ہے کہ جو لوگ حق کے سامنے سرکشی کریں گے اور باطل پر جمے رہیں گے، ان کا انجام جہنم ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حق کے دشمنوں کے ساتھ نرمی نہیں برتنی چاہیے، بلکہ ان کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا چاہیے۔ یہ حکم صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہیں تھا، بلکہ امت کے لیے بھی ہے کہ جب کفر اور نفاق کا مقابلہ ہو تو سختی سے پیش آئیں۔ لیکن یاد رکھیں، یہ سختی محض دشمنی کی بنا پر نہیں، بلکہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ہے۔ جہاد کا مقصد کسی سے ذاتی انتقام نہیں، بلکہ اللہ کا کلمہ بلند کرنا ہے۔ آج بھی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کافروں کے مقابلے میں اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہیں اور منافقین کی سازشوں سے بچتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے ساتھ ہے اور ان کی مدد کرتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے، ان کے لیے جنت ہے، اور جو دشمنی کریں گے، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے
یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پاسکے۔ اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کون سا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولت مند کر دیا ہے۔ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور اگر منہ پھیر لیں تو ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دے گا اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔