Walmu`minoona wal mu`minaatu ba`duhum awliyaaa`u ba;d; yaamuroona bilma`roofi wa yanhawna `anil munkari wa yuqeemoonas Salaata wa yu`toonaz Zakaata wa yutee`oonal laaha wa Rasoolah; ulaaa`ika sayarhamuhumul laah; innallaaha `Azeezun Hakeem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
مردان مؤمن و زنان مؤمن دوستان يكديگرند. به نيكى فرمان مىدهند و از ناشايست باز مىدارند، و نماز مىگزارند و زكات مىدهند و از خدا و پيامبرش فرمانبردارى مىكنند. خدا اينان را رحمت خواهد كرد، خدا پيروزمند و حكيم است.
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَوْلِيَاءُ: ایک دوسرے کے مددگار، حمایتی اور دوست۔
بِالْمَعْرُوفِ: ہر وہ کام جو شرع اور عقل کے مطابق اچھا ہو، جیسے ایمان، نیکی اور طاعت۔
عَنِ الْمُنكَرِ: ہر وہ کام جو شرع میں برا اور ممنوع ہو، جیسے شرک، گناہ اور نافرمانی۔
يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ: نماز کو اس کے مقررہ وقت اور شرائط کے ساتھ پوری طرح ادا کرتے ہیں۔
يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ: زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو مال کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
عَزِيزٌ: غالب اور طاقتور، جس کی مرضی کے آگے کوئی چیز حائل نہ ہو۔
حَكِيمٌ: حکمت والا، جو ہر کام مصلحت اور دانائی سے کرتا ہے۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ مومنین اور مومنات کی شان بیان فرماتا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے حقیقی دوست، مددگار اور حمایتی ہیں۔ ان کا آپس کا تعلق محض دنیاوی مفادات پر نہیں بلکہ ایمان اور دین کی بنیاد پر ہے، اس لیے وہ ایک دوسرے کے سکھ اور دکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ ان کی پہچان یہ ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں، یعنی ایمان، صبر، صدقہ اور ہر اچھے کام کی ترغیب دیتے ہیں، اور برائی سے روکتے ہیں، یعنی شرک، ظلم، جھوٹ، سود اور ہر گناہ سے منع کرتے ہیں۔ وہ نماز کو اس کی شرائط اور خشوع و خضوع کے ساتھ قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں غریب اور محتاج کی مدد ہو اور مال میں برکت آئے۔ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بناتے ہیں، چاہے وہ اپنی خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
ان صفات کے حامل لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ضرور ان پر رحمت فرمائے گا، انہیں عذاب سے بچائے گا اور جنت میں داخل کرے گا۔ یہ رحمت اللہ کی طرف سے یقینی ہے کیونکہ وہ عزیز ہے، یعنی اس کی قدرت کامل ہے اور کوئی اس کے فیصلے کو نہیں ٹال سکتا، اور وہ حکیم ہے، یعنی وہ ہر کام حکمت اور مصلحت کے ساتھ کرتا ہے، اس لیے اس کا وعدہ اور اس کا انعام دونوں برحق ہیں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومنین کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ ان کا آپس کا تعلق محبت اور بھائی چارے پر ہے، اور یہی وہ مضبوط رشتہ ہے جو معاشرے کو امن و سکون بخشتا ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کے مددگار بنیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے، تو اللہ کی رحمت ہم پر نازل ہوگی۔ یاد رکھیں، یہ وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی دیتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں ان صفات کو اپنائیں، ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا سلوک کریں، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو اپنا شعار بنائیں تاکہ ہم بھی اس عظیم رحمت کے مستحق بن سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو، جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ تھے تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔ اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں
کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے۔ اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔