خَلَائِفَ: خلیفہ کی جمع، یعنی جانشین، نائب، ایک کے بعد دوسرے کی جگہ لینے والے۔
مِنْۢ بَعْدِہِمْ: اُن (پہلی قوموں) کے بعد۔
لِنَنْظُرَ: تاکہ ہم دیکھیں، یعنی آزمائیں اور جانچیں۔
کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ: تم کیسے عمل کرتے ہو، نیک یا بد۔
تفسیر:
اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین میں اُن ہلاک شدہ قوموں کا جانشین بنایا ہے جو تم سے پہلے گزریں۔ اُنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اپنی سرکشی کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہوئے۔ اب تم اُن کی جگہ آباد کیے گئے ہو تاکہ اللہ تمہارے اعمال کا مشاہدہ کرے۔ یہ "دیکھنا" محض علم حاصل کرنے کے لیے نہیں، کیونکہ اللہ تو ہر چیز سے باخبر ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ تمہیں آزمایا جا رہا ہے کہ تم نیکی کا راستہ چنتے ہو یا برائی کا۔ اگر تم نیک عمل کرو گے تو تمہیں اس کا ثواب ملے گا، اور اگر برے کام کرو گے تو سزا کے مستحق ٹھہرو گے۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے ایک بیداری اور نصیحت ہے کہ زمین پر اللہ کی خلافت کوئی کھیل نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ تمہارا ہر عمل اللہ کی نظر میں ہے، اور تمہیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ جس طرح پچھلی قومیں اپنے اعمال کی وجہ سے برباد ہوئیں، اسی طرح اگر تم نے راہِ راست نہ اپنائی تو تمہارا انجام بھی برا ہو سکتا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اس زمین پر اللہ کے نائب ہیں، اور ہم سے یہ توقع ہے کہ ہم اپنے وقت، اپنی صلاحیتوں اور اپنے وسائل کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کریں۔ ہر صبح جو نئی زندگی ہمیں ملتی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ایک اور موقع ہے کہ ہم اپنے گزشتہ اعمال کو بہتر کریں اور نیکی کی راہ پر چلیں۔ یاد رکھیں، اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے، اور وہی تمہارا حقیقی محاسب ہے۔ اپنی زندگی کو اس طرح گزاریں کہ جب تم سے پوچھا جائے کہ تم نے خلافت کا حق ادا کیا یا نہیں، تو تم سرخرو ہو۔ اللہ تمہیں توفیق دے کہ تم اپنی زندگی کو اس کے احکام کے مطابق ڈھالو اور اس کی رحمت کے مستحق بنو۔ آمین۔
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہیں تو (بےلحاظ ہو جاتا ہے اور) اس طرح گزر جاتا ہے گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کرکے دکھائے گئے ہیں
اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم کا راستہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے
(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا) بھلا تم سمجھتے نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔