یونس · 15/109
ترجمہ تلفظ — یونس
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ ۙ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَٰذَا أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۖ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۝١٥
Wa izaa tutlaa `alaihim aayaatunaa baiyinaatin qaalal lazeena laa yarjoona liqaaa`ana`ti bi Quraanin ghairi haazaaa aw baddilh; qul maa yakoonu leee an ubaddilahoo min tilqaaa`i nafsee in attabi`u illaa maa yoohaaa ilaiya inneee akhaafu in `asaytu Rabbee `azaaba Yawmin `Azeeem
📖 اردو ترجمہ
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا: ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے، یعنی آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔
  • بَيِّنَاتٍ: واضح اور روشن دلیلیں۔
  • ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا: اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لاؤ۔
  • بَدِّلْهُ: اسے بدل دو، یعنی کسی آیت کو کسی اور آیت سے تبدیل کر دو۔
  • مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي: اپنی طرف سے، اپنے اختیار سے۔
  • عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ: بڑے دن (قیامت) کا عذاب۔

تفسیر:

جب ان مشرکین کے سامنے ہماری واضح اور روشن آیات پڑھی جاتی ہیں، جن میں توحید، رسالت اور آخرت کی سچی خبریں ہوتی ہیں، تو وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی کوئی امید نہیں رکھتے، جو نہ کسی ثواب کے طالب ہیں اور نہ کسی عذاب سے ڈرتے ہیں، وہ گستاخی سے کہتے ہیں: "اے محمد! اس قرآن کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ، یا اسے بدل دو — جس میں ہمارے معبودوں کی برائی نہ ہو، حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دو، وعید کو وعدہ اور وعدہ کو وعید بنا دو، تاکہ ہم تمہاری بات مان لیں۔"

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ انہیں جواب دیں: "یہ کام میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں اپنی طرف سے اسے بدلنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں اور تمہاری خواہشات کے مطابق قرآن کو بدل دوں، تو مجھے ایک بڑے دن (قیامت) کے عذاب کا ڈر ہے۔"

یہ آیت نبی کریم ﷺ کی عظمت اور آپ کے مقامِ رسالت کی دلیل ہے کہ آپ وحی کے محض امین تھے، نہ کہ اپنی مرضی سے کچھ کہنے والے۔ آپ نے فرمایا: "میں اپنے رب کی نافرمانی کر کے اس کے عذاب کا مستحق نہیں بن سکتا، چاہے تم لوگ کتنا ہی اصرار کرو۔"

دعوتی انداز:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دینِ اسلام ایک مکمل اور محفوظ دین ہے، جسے اللہ نے اپنے فضل سے ہر قسم کی تبدیلی اور تحریف سے بچا رکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کیا، اور ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی خواہشات کو دین پر مقدم نہ کریں، بلکہ دین کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھیں۔ جو شخص اللہ کے کلام کو اپنی مرضی سے بدلنے کی کوشش کرتا ہے، وہ اللہ کے عذاب کا مستحق بنتا ہے۔ لیکن جو شخص قرآن کو اپنا راہنما بناتا ہے، اللہ اسے دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ آئیے ہم سب قرآن کو اپنی زندگی کا دستور بنائیں، کیونکہ یہی وہ کتاب ہے جسے اللہ نے قیامت تک کے لیے محفوظ رکھا ہے، اور یہی ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔



📜 آیت 13-17 — یونس

13وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِن قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا ۙ وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ
اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم کا راستہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
14ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ مِن بَعْدِهِمْ لِنَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو
15وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ ۙ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَٰذَا أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۖ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے
16قُل لَّوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَاكُم بِهِ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا) بھلا تم سمجھتے نہیں
17فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ
تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بےشک گنہگار فلاح نہیں پائیں گے
یونسقرآن فہرست
109آیت
مکیRevelation
15آیت

ترجمہ — یونس 15

سورہ یونس آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی…

سورہ آیت 15/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں