یوسف · 100/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا ۖ وَقَالَ يَا أَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي ۚ إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۝١٠٠
Wa raf`a abawaihi `alal `arshi wa kharroo lahoo sujjadaa; wa qaala yaaa abati haaza taaweelu ru`yaaya min qablu qad ja`alahaa Rabbee haqqaa; wa qad ahsana beee iz akhrajanee minas sijni wa jaaa`a bikum minal badwi mim ba`di an nazaghash Shaitaanu bainee wa baina ikhwatee; inna Rabbee lateeful limaa yashaaa`; innahoo Huwal `Aleemul Hakeem
📖 اردو ترجمہ
اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عرش: تخت، شاہی مسند یا سریرِ سلطنت۔
  • خرّوا: وہ گر پڑے، جھک گئے۔
  • سجداً: سجدہ کرتے ہوئے (یہاں یہ تحیت اور تعظیم کا طریقہ تھا، عبادت نہیں
  • تأویل: انجام، حقیقت، تعبیر۔
  • بدو: صحرا، جنگل، دیہات (جہاں وہ لوگ رہتے تھے
  • نزغ: فساد ڈالنا، بگاڑ پیدا کرنا، اکسانا۔
  • لطیف: باریک بین، نرمی اور حکمت کے ساتھ تدبیر کرنے والا۔

تفسیر:

جب حضرت یوسف علیہ السلام کا خاندان مصر پہنچا اور وہ اپنے عہدۂ سلطنت پر متمکن ہوئے، تو انہوں نے اپنے والدین کو اپنے شاہی تخت کے پاس اعلیٰ مقام پر بٹھایا، ان کی عظمت اور قدر کا اظہار کیا۔ پھر والدین اور گیارہ بھائیوں نے یوسف علیہ السلام کے سامنے تعظیماً سجدہ کیا۔ یہ سجدہ عبادت نہیں تھا، بلکہ اس وقت کے شریعت میں تحیت اور سلام کا طریقہ تھا، جیسا کہ پہلی امتوں میں رائج تھا۔ ہماری شریعت میں اسے منع کر دیا گیا تاکہ شرک کا کوئی دروازہ نہ کھلے۔

اس موقع پر یوسف علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا: "اے والد محترم! یہی وہ خواب کی تعبیر ہے جو میں نے بچپن میں دیکھا تھا اور آپ سے بیان کیا تھا کہ میں نے گیارہ ستاروں، سورج اور چاند کو سجدہ کرتے دیکھا۔ میرے رب نے اس خواب کو سچا کر دکھایا۔" انہوں نے اس موقع پر اپنے رب کے احسانات کا ذکر کیا کہ اس نے مجھے قید سے نکالا، اور آپ لوگوں کو صحرا سے یہاں تک پہنچایا، اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان عداوت اور فساد ڈال دیا تھا۔

پھر انہوں نے اپنے رب کی صفات بیان کیں: "میرا رب اپنی مشیت کے مطابق بہت لطیف ہے، وہ نرمی اور حکمت سے اپنے بندوں کے معاملات کو سنوارتا ہے۔ وہی سب کچھ جاننے والا ہے، اپنے بندوں کے مصالح کو خوب جانتا ہے، اور وہی حکیم ہے جو ہر کام حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔"

دعوتی پہلو:

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تدبیر بہت لطیف ہے۔ انسان پر مصیبتیں آئیں تو مایوس نہ ہو، کیونکہ اللہ ہر اندھیری رات کے بعد صبح کی روشنی ضرور لاتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں سے نکال کر قید تک پہنچایا گیا، پھر قید سے نکال کر تختِ سلطنت پر بٹھایا گیا۔ یہ سب اللہ کی حکمت کا کرشمہ تھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب پر بھروسہ رکھیں، اس کے احسانات کو یاد کریں، اور اپنے والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے ساتھ جو درگزر اور رحم کا معاملہ کیا، وہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیوں کو یاد نہ رکھیں، بلکہ معاف کر دیں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے دلوں کو پاک کرے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 98-102 — یوسف

98قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
99فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَىٰ يُوسُفَ آوَىٰ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِن شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ
جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا
100وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا ۖ وَقَالَ يَا أَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي ۚ إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
101۞ رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ
(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو
102ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۖ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ
(اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
100آیت

ترجمہ — یوسف 100

سورہ یوسف آیت 100 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ…

سورہ آیت 100/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 98–102. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں