یوسف · 101/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
۞ رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ ۝١٠١
Rabbi qad aataitanee minal mulki wa `allamtanee min taaweelil ahaadees; faati ras samaawaati wal ardi Anta waliyyee fid dunyaa wal Aakhirati tawaffanee muslimanw wa alhiqnee bissaaliheen
📖 اردو ترجمہ
(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مُلک: بادشاہت، حکومت اور اقتدار۔
  • تأویل الاحادیث: خوابوں کی تعبیر اور ان کے معانی تک پہنچنے کا علم۔
  • فاطر: پیدا کرنے والا، عدم سے وجود میں لانے والا۔
  • ولی: کارساز، سنبھالنے والا، مددگار۔
  • توفنی: مجھے وفات دے، میری روح قبض فرما۔
  • الصالحین: نیک بندے، خاص طور پر انبیاء اور برگزیدہ ہستیاں۔

تفسیر:

حضرت یوسف علیہ السلام جب اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں سے سرفراز ہوئے، مصر کا اقتدار ان کے ہاتھ میں آیا، خوابوں کی تعبیر کا علم عطا ہوا، اور والدین سمیت پورا خاندان ان سے مل گیا، تو اس عروج و کمال کے باوجود انہوں نے اپنے رب کو نہیں بھلایا۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ سب کچھ اللہ کا فضل ہے، اور یہ دنیا کی نعمتیں فانی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے رب کے حضور دعا کی: "اے میرے رب! تو نے مجھے سلطنت کا ایک حصہ عطا فرمایا اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم سکھایا۔" انہوں نے کہا "مِنَ المُلک" یعنی کچھ حکومت، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اصل بادشاہت تو اللہ کی ہے، اور جو کچھ بھی انہیں ملا وہ اللہ ہی کا عطیہ تھا۔

پھر انہوں نے اللہ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: "اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز اور ولی ہے۔" یعنی اے اللہ! تو ہی میری حفاظت کرنے والا، میری رہنمائی کرنے والا، اور میرے تمام معاملات سنبھالنے والا ہے۔ دنیا میں تو نے میری مدد کی، مجھے عزت دی، اور آخرت میں بھی میں تیری ہی رحمت اور مدد کا محتاج ہوں۔

اس کے بعد انہوں نے سب سے اہم چیز مانگی: "مجھے مسلمان (اپنا فرمانبردار) وفات دے اور مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے۔" یعنی اے اللہ! جب میری موت آئے تو میں اس حالت میں مروں کہ میں تیرا مکمل فرمانبردار ہوں، تیرے دین پر قائم ہوں، اور شرک و گناہ سے پاک ہوں۔ اور مجھے اپنے نیک بندوں، خاص طور پر میرے آباء و اجداد ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہم السلام کے ساتھ جنت میں شامل فرما۔

یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کی کتنی ہی بڑی نعمتیں مل جائیں، انسان کو اپنے رب سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہت اور علم کے باوجود عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ سے آخرت کی بھلائی مانگی۔ یہ سبق ہمارے لیے ہے کہ ہم بھی دنیا کی کامیابیوں پر مغرور نہ ہوں، بلکہ اللہ سے حسنِ عاقبت کی دعا کریں۔ اور یاد رکھیں کہ سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم مسلمان (اللہ کے فرمانبردار) مریں اور نیک بندوں کے ساتھ اٹھائے جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 99-103 — یوسف

99فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَىٰ يُوسُفَ آوَىٰ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِن شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ
جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا
100وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا ۖ وَقَالَ يَا أَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي ۚ إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
101۞ رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ
(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو
102ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۖ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ
(اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے
103وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
101آیت

ترجمہ — یوسف 101

سورہ یوسف آیت 101 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے…

سورہ آیت 101/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 99–103. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں