Wa izaa tallaqtumun nisaaa`a fabalaghna ajalahunna falaa ta`duloo hunna ai yankihna azwaaja humna izaa taraadaw bainahum bilma` roof; zaalika yoo`azu bihee man kaana minkum yu`minu billaahi wal yawmil aakhir; zaalikum azkaa lakum wa athar; wallaahu ya`lamu wa antum laa ta`lamu wa antum laa ta`lamoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و چون زنان را طلاق داديد و مهلتشان سرآمد، مانع مشويد كه به نكاح همسران خود -هرگاه كه ميانشان رضايتى حاصل شده باشد- درآيند. كسى كه از شما به خداى و روز قيامت ايمان آورده باشد اينچنين پند گيرد. و اين شما را بهتر و به پاكى نزديكتر است. خدا مى داند و شما نمىدانيد.
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ: یعنی ان کی عدت پوری ہو جائے۔
فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ: انہیں روکو مت، تنگی اور سختی مت کرو۔
أَزْكَى: زیادہ بہتر، زیادہ برکت والا۔
أَطْهَرُ: زیادہ پاکیزہ۔
تفسیر:
جب تم عورتوں کو طلاق دو (اور طلاق تین سے کم ہو) اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں، تو انہیں اس بات سے مت روکو کہ وہ اپنے (سابقہ) شوہروں سے نکاح کریں، بشرطیکہ وہ دونوں آپس میں شرعی اور معروف طریقے سے رضامند ہوں۔ یہ حکم ان ولیوں کے لیے ہے جو عورتوں کو ان کے شوہروں کے پاس جانے سے روکتے تھے، حالانکہ عورت اور شوہر دونوں ایک دوسرے سے خوش تھے۔
یہ نصیحت ان لوگوں کو کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس حکم پر عمل کرنا تمہارے لیے زیادہ بہتر اور پاکیزہ ہے، کیونکہ اس میں تمہاری عزت کی حفاظت ہے، دلوں کی صفائی ہے، اور معاشرے میں محبت اور بھلائی پھیلتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس میں تمہاری بھلائی ہے، جبکہ تم نہیں جانتے۔
دعوتی پہلو:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ولیوں کو عورتوں کے معاملے میں انصاف اور نرمی کا حکم دیا ہے، تاکہ معاشرے میں ظلم نہ ہو اور عورتوں کے جائز حقوق پامال نہ ہوں۔ یہ حکم اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام عورت کی عزت اور اس کے اختیار کا مکمل احترام کرتا ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے احکام پر عمل کرے، کیونکہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ بندوں کے لیے کیا مفید ہے۔ جب ہم اللہ کے حکم پر چلتے ہیں تو ہمارے دلوں میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے، ہمارے معاشرے میں محبت اور بھائی چارگی بڑھتی ہے، اور ہم اللہ کی رحمت کے مستحق بنتے ہیں۔ یاد رکھیں، اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے، اور وہی ہماری حقیقی بھلائی کا راستہ دکھانے والا ہے۔
پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں
اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھوکہ خدا ہر چیز سے واقف ہے
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے۔ اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے
اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔