Aw kallazee marra `alaa qaryatinw wa hiya khaawiyatun `alaa `urooshihaa qaala annaa yuhyee haazihil laahu ba`da mawtihaa fa amaatahul laahu mi`ata `aamin suumma ba`asahoo qaala kam labista qaala labistu yawman aw ba`da yawmin qaala bal labista mi`ata `aamin fanzur ilaa ta`aamika wa sharaabika lam yatasannah wanzur ilaa himaarika wa linaj`alaka Aayatal linnaasi wanzur ilal`izaami kaifa nunshizuhaa summa naksoohaa lahmaa; falammaa tabiyana lahoo qaala a`lamu annal laaha `alaakulli shai`in Qadeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
يا مانند آن كس كه به دهى رسيد. دهى كه سقفهاى بناهايش فروريخته بود. گفت: از كجا خدا اين مردگان را زنده كند؟ خدا او را به مدت صد سال ميراند. آنگاه زندهاش كرد. و گفت: چه مدت در اينجا بودهاى؟ گفت: يك روز يا قسمتى از روز. گفت: نه، صد سال است كه در اينجا بودهاى. به طعام و آبت بنگر كه تغيير نكرده است، و به خرت بنگر، مىخواهيم تو را براى مردمان عبرتى گردانيم، بنگر كه استخوانها را چگونه به هم مىپيونديم و گوشت بر آن مىپوشانيم. چون قدرت خدا بر او آشكار شد، گفت: مىدانم كه خدا بر هر كارى تواناست.
علیٰ عروشها: اپنی چھتوں پر، یعنی چھتیں گر گئیں اور دیواریں ان پر آ گریں۔
أنّی: کیسے، کس طرح۔
لم یتسنّہ: زمانہ گزرنے کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، نہ خراب ہوا نہ بدبو آئی۔
ننشزها: ہم اٹھاتے ہیں، جوڑتے ہیں، ایک دوسرے سے ملاتے ہیں۔
بعثه: اسے زندہ کیا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایک اور عظیم واقعہ بیان فرماتا ہے جو قیامت اور موت کے بعد زندگی پر ایمان لانے کے لیے ایک زندہ دلیل ہے۔ ایک شخص (جو روایات کے مطابق حضرت عزیر علیہ السلام یا ارمیا نبی تھے) ایک بستی سے گزرے جو بالکل ویران ہو چکی تھی۔ اس کے مکانات کی چھتیں گر چکی تھیں، دیواریں ڈھے گئی تھیں، اور وہاں کا کوئی باسی باقی نہیں تھا۔ یہ منظر دیکھ کر وہ حیرت سے کہنے لگے: "یہ اللہ اس بستی کو اس کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟" یہ انہوں نے اللہ کی قدرت پر شک کی بنا پر نہیں کہا، بلکہ تعجب اور حیرت کے طور پر کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں سو سال کے لیے موت دے دی، پھر انہیں زندہ کیا۔ اللہ نے ان سے پوچھا: "تم کتنی دیر ٹھہرے؟" انہوں نے کہا: "ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔" انہیں معلوم نہ تھا کہ اتنا لمبا عرصہ گزر گیا ہے۔ اللہ نے فرمایا: "نہیں، تم سو سال ٹھہرے ہو۔" پھر اللہ نے انہیں اپنے کھانے اور پینے کی چیزوں کی طرف دیکھنے کو کہا، جو بالکل تازہ تھیں، حالانکہ سو سال گزر چکے تھے۔ پھر اپنے گدھے کی طرف دیکھنے کو کہا، جو مر کر صرف ہڈیاں رہ گیا تھا، اور وہ ہڈیاں بھی بکھری ہوئی تھیں۔ اللہ نے ان ہڈیوں کو جوڑا، ان پر گوشت چڑھایا، اور گدھے کو زندہ کر دیا۔ یہ سب کچھ اس شخص کے سامنے ہو رہا تھا۔
اللہ نے فرمایا: "ہم نے یہ سب کچھ اس لیے کیا تاکہ تم لوگوں کے لیے ایک نشانی بنو، یعنی تمہارا یہ واقعہ لوگوں کے لیے اللہ کی قدرت اور قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل ہو۔" جب اس شخص نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو اسے مکمل یقین ہو گیا اور اس نے کہا: "میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔"
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی قدرت کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں۔ جس طرح وہ سو سال پرانی بکھری ہڈیوں کو جوڑ کر زندہ کر سکتا ہے، اسی طرح وہ قیامت کے دن تمام انسانوں کو زندہ کرے گا۔ یہ ایمان کی مضبوطی کا سبق ہے۔ جب ہم اپنے گردوپیش کی مخلوقات پر غور کرتے ہیں تو اللہ کی قدرت کے بے شمار نمونے نظر آتے ہیں۔ ہر موسم، ہر پودا، ہر جاندار اللہ کی قدرت کی نشانی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اللہ پر مکمل بھروسہ رکھیں اور یقین رکھیں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو اپنی قدرت دکھاتا ہے تاکہ ان کا ایمان مضبوط ہو، اور ہمیں بھی اللہ کی آیات پر غور و فکر کرنا چاہیے۔
یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے
جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے
اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن (میں دیکھنا) اس لئے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔
جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔