ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَرِنِي: مجھے دکھا
- تُحْيِي الْمَوْتَى: مردوں کو زندہ کرتا ہے
- لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي: تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے
- فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ: انہیں اپنی طرف مائل کرو (یعنی ذبح کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو)
- سَعْيًا: دوڑتے ہوئے، تیزی سے
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک خوبصورت واقعہ سناتے ہیں، جو ایمان کی بلندی اور یقین کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: "اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے؟"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟" حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: "کیوں نہیں، میں ایمان رکھتا ہوں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرا دل اور زیادہ مطمئن ہو جائے۔"
یہ بات بہت اہم ہے! حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایمان پہلے سے کامل تھا، لیکن وہ علم الیقین سے عین الیقین تک پہنچنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ جو کچھ انہوں نے دل سے مانا ہے، وہ آنکھوں سے بھی دیکھ لیں تاکہ ان کا یقین اور پختہ ہو جائے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان میں ترقی اور اضافہ ممکن ہے، اور ہمیں بھی اپنے ایمان کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا: "چار پرندے پکڑو، انہیں اپنے پاس لاؤ اور انہیں ذبح کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو، پھر ان کے ٹکڑوں کو چاروں پہاڑوں پر رکھ دو، پھر انہیں آواز دو، وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے۔"
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے چار پرندے لیے، انہیں ذبح کیا، ان کے ٹکڑے کیے، اور ہر پہاڑ پر ایک حصہ رکھ دیا۔ پھر انہوں نے آواز دی، اور اللہ کے حکم سے وہ پرندے زندہ ہو کر اپنے پر اور جسم کو جوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس دوڑتے ہوئے آ گئے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عظیم مظاہرہ تھا! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اور وہ مردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے۔ یہ قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ عزت والا ہے، حکمت والا ہے۔" یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کامل ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اور اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان صرف اندھا یقین نہیں ہے، بلکہ اللہ کی نشانیوں پر غور و فکر کرنا بھی ایمان کا حصہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے عظیم نبی نے بھی اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے اللہ سے نشانی مانگی، تو ہم کیوں نہیں اللہ کی قدرت پر غور کریں؟ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، اس کی قدرت کے نمونے دیکھیں، اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔
یہ آیت قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے پر یقین کی دعوت دیتی ہے۔ جو شخص یہ مانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے، وہ آخرت کی تیاری کرے گا اور نیک اعمال پر عمل پیرا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح کامل ایمان اور یقین عطا فرمائے، اور ہمیں اپنی قدرت کی نشانیوں پر غور و فکر کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 258-262 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 260
سورہ آیت 260/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 258–262. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








