بقرہ · 260/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِـۧمُ رَبِّ أَرِنِي كَيۡفَ تُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰۖ قَالَ أَوَلَمۡ تُؤۡمِنۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطۡمَئِنَّ قَلۡبِيۖ قَالَ فَخُذۡ أَرۡبَعَةً مِّنَ ٱلطَّيۡرِ فَصُرۡهُنَّ إِلَيۡكَ ثُمَّ ٱجۡعَلۡ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنۡهُنَّ جُزۡءًا ثُمَّ ٱدۡعُهُنَّ يَأۡتِينَكَ سَعۡيًاۚ وَٱعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ  ۝٢٦٠
Wa iz qaala Ibraaheemu Rabbi arinee kaifa tuhyil mawtaa qaala awa lam tu`min qaala balaa wa laakil liyatma`inna qalbee qaala fakhuz arab`atam minal tairi fasurhunna ilaika summaj `al a`alaa kulli jabalim minhunna juz`an sumaad `uhunna yaateenaka sa`yaa; wa`lam annal laaha `Azeezun Hakeem
📖 اردو ترجمہ
اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن (میں دیکھنا) اس لئے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَرِنِي: مجھے دکھا
  • تُحْيِي الْمَوْتَى: مردوں کو زندہ کرتا ہے
  • لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي: تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے
  • فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ: انہیں اپنی طرف مائل کرو (یعنی ذبح کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو)
  • سَعْيًا: دوڑتے ہوئے، تیزی سے

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک خوبصورت واقعہ سناتے ہیں، جو ایمان کی بلندی اور یقین کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: "اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے؟"

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟" حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: "کیوں نہیں، میں ایمان رکھتا ہوں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرا دل اور زیادہ مطمئن ہو جائے۔"

یہ بات بہت اہم ہے! حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایمان پہلے سے کامل تھا، لیکن وہ علم الیقین سے عین الیقین تک پہنچنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ جو کچھ انہوں نے دل سے مانا ہے، وہ آنکھوں سے بھی دیکھ لیں تاکہ ان کا یقین اور پختہ ہو جائے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان میں ترقی اور اضافہ ممکن ہے، اور ہمیں بھی اپنے ایمان کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا: "چار پرندے پکڑو، انہیں اپنے پاس لاؤ اور انہیں ذبح کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو، پھر ان کے ٹکڑوں کو چاروں پہاڑوں پر رکھ دو، پھر انہیں آواز دو، وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے۔"

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے چار پرندے لیے، انہیں ذبح کیا، ان کے ٹکڑے کیے، اور ہر پہاڑ پر ایک حصہ رکھ دیا۔ پھر انہوں نے آواز دی، اور اللہ کے حکم سے وہ پرندے زندہ ہو کر اپنے پر اور جسم کو جوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس دوڑتے ہوئے آ گئے۔

یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عظیم مظاہرہ تھا! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اور وہ مردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے۔ یہ قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ عزت والا ہے، حکمت والا ہے۔" یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کامل ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اور اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان صرف اندھا یقین نہیں ہے، بلکہ اللہ کی نشانیوں پر غور و فکر کرنا بھی ایمان کا حصہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے عظیم نبی نے بھی اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے اللہ سے نشانی مانگی، تو ہم کیوں نہیں اللہ کی قدرت پر غور کریں؟ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، اس کی قدرت کے نمونے دیکھیں، اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔

یہ آیت قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے پر یقین کی دعوت دیتی ہے۔ جو شخص یہ مانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے، وہ آخرت کی تیاری کرے گا اور نیک اعمال پر عمل پیرا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح کامل ایمان اور یقین عطا فرمائے، اور ہمیں اپنی قدرت کی نشانیوں پر غور و فکر کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 258-262 — بقرہ

258أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِي حَآجَّ إِبۡرَٰهِـۧمَ فِي رَبِّهِۦٓ أَنۡ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلۡمُلۡكَ إِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِـۧمُ رَبِّيَ ٱلَّذِي يُحۡيِۦ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا۠ أُحۡيِۦ وَأُمِيتُۖ قَالَ إِبۡرَٰهِـۧمُ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَأۡتِي بِٱلشَّمۡسِ مِنَ ٱلۡمَشۡرِقِ فَأۡتِ بِهَا مِنَ ٱلۡمَغۡرِبِ فَبُهِتَ ٱلَّذِي كَفَرَۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ 
بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
259أَوۡ كَٱلَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرۡيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحۡيِۦ هَٰذِهِ ٱللَّهُ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۖ فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِاْئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُۥۖ قَالَ كَمۡ لَبِثۡتَۖ قَالَ لَبِثۡتُ يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍۖ قَالَ بَل لَّبِثۡتَ مِاْئَةَ عَامٍ فَٱنظُرۡ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمۡ يَتَسَنَّهۡۖ وَٱنظُرۡ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجۡعَلَكَ ءَايَةً لِّلنَّاسِۖ وَٱنظُرۡ إِلَى ٱلۡعِظَامِ كَيۡفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكۡسُوهَا لَحۡمًاۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥ قَالَ أَعۡلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيرٌ 
یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے
260وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِـۧمُ رَبِّ أَرِنِي كَيۡفَ تُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰۖ قَالَ أَوَلَمۡ تُؤۡمِنۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطۡمَئِنَّ قَلۡبِيۖ قَالَ فَخُذۡ أَرۡبَعَةً مِّنَ ٱلطَّيۡرِ فَصُرۡهُنَّ إِلَيۡكَ ثُمَّ ٱجۡعَلۡ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنۡهُنَّ جُزۡءًا ثُمَّ ٱدۡعُهُنَّ يَأۡتِينَكَ سَعۡيًاۚ وَٱعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ 
اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن (میں دیکھنا) اس لئے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔
261مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنۢبُلَةٍ مِّاْئَةُ حَبَّةٍۗ وَٱللَّهُ يُضَٰعِفُ لِمَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ 
جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
262ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ لَا يُتۡبِعُونَ مَآ أَنفَقُواْ مَنًّا وَلَآ أَذًى لَّهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ 
جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
260آیت

ترجمہ — بقرہ 260

سورہ آیت 260/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 258–262. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں