Ayawaddu ahadukum an takoona lahoo jannatum min nakheelinw wa a`naabin tajree min tahtihal anhaaru lahoo feehaa min kullis samaraati wa asaabahul kibaru wa lahoo zurriyyatun du`afaaa`u fa asaabahaaa i`saarun feehi naarun fahtaraqat; kazaalika yubaiyinul laahu lakumul aayaati la`allakum tatafakkaroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا از ميان شما كسى هست كه دوست داشته باشد كه او را بوستانى از خرما و انگور بوده باشد، و جويها در پاى درختانش جارى باشد، و هر گونه ميوهاى دهد، و خود پير شده و فرزندانى ناتوان داشته باشد، به ناگاه گرد بادى آتشناك در آن بوستان افتد و بسوزد؟ خدا آيات خود را براى شما اينچنين بيان مىكند، باشد كه بينديشيد.
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
جَنَّة: باغ، بستان
نَخِیل: کھجور کے درخت
أَعْنَاب: انگور کے درخت
إِعْصَار: تیز آندھی، طوفانی ہوا
ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَاء: کمزور اور چھوٹے بچے
اِحْتَرَقَت: جل گئی، خاکستر ہو گئی
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک ایسی مثال کے ذریعے نصیحت فرماتا ہے جو دل کو جھنجھوڑ دینے والی ہے۔ وہ پوچھتا ہے: کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس ایک خوبصورت باغ ہو، جس میں کھجور اور انگور کے سرسبز درخت ہوں، نیچے سے نہریں بہتی ہوں، اور ہر قسم کے میوے اور پھل اس میں موجود ہوں؟ پھر وہ شخص بوڑھا ہو جائے اور اس کی قوتِ کار ختم ہو جائے، اس کے چھوٹے چھوٹے کمزور بچے ہوں جو نہ کما سکیں نہ باغ کی دیکھ بھال کر سکیں، اور اس حالت میں ایک تیز آندھی آئے جس میں آگ ہو اور وہ پورا باغ جل کر راکھ ہو جائے۔ کیا اس شخص کی حسرت اور افسوس کا کوئی ٹھکانہ ہوگا؟ بالکل ایسا ہی حال اس شخص کا ہے جو اپنا مال صرف دکھاوے اور ریاکاری کے لیے خرچ کرتا ہے، اللہ کی رضا مقصود نہیں ہوتی۔ قیامت کے دن جب اسے اپنے اعمال کی ضرورت ہوگی، تو اسے کچھ بھی نہ ملے گا، اس کا سارا عمل اس طرح ضائع ہو جائے گا جیسے وہ باغ جل گیا۔
اللہ تعالیٰ اپنی آیات اس طرح واضح طور پر بیان فرماتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو اور سمجھو کہ اعمال کی قبولیت کا دارومدار اخلاص پر ہے۔ اگر عمل خالص اللہ کے لیے ہو تو وہ قیامت کے دن کام آئے گا، ورنہ وہ اس باغ کی مانند ہوگا جو بوڑھے آدمی کے سامنے جل کر خاکستر ہو گیا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ نیکی کا اصل معیار اس کا اخلاص ہے، نہ کہ اس کی ظاہری شکل و صورت۔ جس طرح ایک بوڑھا شخص اپنے باغ کو اپنی آنکھوں کے سامنے جلتا دیکھ کر تباہ ہو جاتا ہے، اسی طرح ریاکار شخص قیامت کے دن اپنے اعمال کو ضائع ہوتا دیکھ کر پشیمان ہوگا، مگر اس وقت پشیمانی کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے اعمال کو خالص اس کی رضا کے لیے کریں، کیونکہ وہی ہے جو ہمیں اس دن نجات دلائے گا جب ہر شخص اپنے اعمال کا حساب دے گا۔ یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے تاکہ ہم اپنی زندگیوں کو اخلاص اور تقویٰ پر استوار کریں، اور اللہ کی رحمت کے امیدوار بنیں۔
مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)
مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ خدا بےپروا (اور) قابل ستائش ہے
(اور دیکھنا) شیطان (کا کہنا نہ ماننا وہ) تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کر نے کو کہتا ہے۔ اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے۔ اور خدا بڑی کشائش والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔