بقرہ · 267/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنفِقُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا كَسَبۡتُمۡ وَمِمَّآ أَخۡرَجۡنَا لَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِۖ وَلَا تَيَمَّمُواْ ٱلۡخَبِيثَ مِنۡهُ تُنفِقُونَ وَلَسۡتُم بِـَٔاخِذِيهِ إِلَّآ أَن تُغۡمِضُواْ فِيهِۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ  ۝٢٦٧
Yaaa `ayyuhal lazeena aamanooo anfiqoo min taiyibaati maa kasabtum wa mimmaaa akhrajuaa lakum minal ardi wa laa tayammamul khabeesa minhu tunfiqoona wa lastum bi aakhizeehi illaaa an tughmidoo feeh; wa`lamooo annal laaha Ghaniyyun Hameed
📖 اردو ترجمہ
مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ خدا بےپروا (اور) قابل ستائش ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • طَیِّبَات: پاکیزہ اور حلال چیزیں
  • کَسَبْتُمْ: جو تم نے کمایا (تجارت، صنعت یا کسی جائز ذریعہ سے)
  • تَیَمَّمُوا: قصد کرو، ارادہ کرو
  • خَبِیث: ناپاک، گندا، ردی اور ادنیٰ درجے کا مال
  • تُغْمِضُوا: آنکھیں بند کرو، چشم پوشی کرو، درگزر کرو
  • غَنِیّ: بے نیاز، جو کسی کا محتاج نہ ہو
  • حَمِید: لائقِ تعریف، جس کی تعریف کی جائے

تفسیر:

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اپنی کمائی میں سے جو پاکیزہ، حلال اور بہترین ہو اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو، اور اسی طرح جو کچھ اللہ نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے—اناج، پھل، معدنیات اور دیگر زمینی وسائل—ان میں سے بھی بہترین اور پاکیزہ چیزوں کو خرچ کرو۔

اللہ تعالیٰ تمہیں منع کرتا ہے کہ تم جان بوجھ کر اپنے مال میں سے ردی، ناقص اور ادنیٰ درجے کی چیزوں کو نکال کر اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک ایسی حقیقت یاد دلاتا ہے: اگر کوئی شخص تمہیں وہی ردی اور ناقص چیز دے تو تم اسے قبول نہیں کرو گے، سوائے اس کے کہ تم اس پر چشم پوشی کرو اور درگزر کرو۔ تو پھر تم اللہ کے لیے وہ چیز کیسے پسند کرتے ہو جو اپنے لیے پسند نہیں کرتے؟!

یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری صدقات اور خیرات کا محتاج نہیں ہے۔ وہ غنی ہے، ہر عیب سے پاک ہے، اور ہر حالت میں تعریف کے لائق ہے۔ اس کا مال تمہیں دینے کا مقصد تمہاری آزمائش اور تمہارے دلوں کی پاکیزگی ہے، نہ کہ اس کی اپنی کوئی ضرورت۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ نیکی اور خیرات کا معیار صرف خرچ کرنا نہیں، بلکہ اس میں خلوص اور بہتری ہے۔ جب ہم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو ہمیں وہی دینا چاہیے جو ہم خود پسند کرتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ بہترین کا مستحق ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے بے نیاز ہے، لیکن وہ ہماری بھلائی چاہتا ہے۔ جب ہم اپنے مال میں سے بہترین حصہ اللہ کی راہ میں دیں گے، تو ہمارے دلوں میں سخاوت، ایثار اور اللہ سے محبت پیدا ہوگی، اور ہمارے اخلاق بلند ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو کچھ دیا ہے، اس میں سے تھوڑا سا بھی اس کی راہ میں خرچ کرنا ہمارے لیے بڑی برکت اور اجر کا باعث ہے۔ آئیے ہم اپنے مال اور اپنی زندگیوں کو اللہ کی راہ میں صرف کرنے کی عادت ڈالیں، اور ہمیشہ بہترین چیز پیش کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ بہترین کا مستحق ہے اور وہ ہمیں بہترین اجر عطا فرمائے گا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 265-269 — بقرہ

265وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمُ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثۡبِيتًا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ كَمَثَلِ جَنَّةِۭ بِرَبۡوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَـَٔاتَتۡ أُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ فَإِن لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٌ فَطَلٌّۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ 
اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے
266أَيَوَدُّ أَحَدُكُمۡ أَن تَكُونَ لَهُۥ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعۡنَابٍ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ لَهُۥ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَأَصَابَهُ ٱلۡكِبَرُ وَلَهُۥ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ فَأَصَابَهَآ إِعۡصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَٱحۡتَرَقَتۡۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُونَ 
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)
267يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنفِقُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا كَسَبۡتُمۡ وَمِمَّآ أَخۡرَجۡنَا لَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِۖ وَلَا تَيَمَّمُواْ ٱلۡخَبِيثَ مِنۡهُ تُنفِقُونَ وَلَسۡتُم بِـَٔاخِذِيهِ إِلَّآ أَن تُغۡمِضُواْ فِيهِۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ 
مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ خدا بےپروا (اور) قابل ستائش ہے
268ٱلشَّيۡطَٰنُ يَعِدُكُمُ ٱلۡفَقۡرَ وَيَأۡمُرُكُم بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ وَٱللَّهُ يَعِدُكُم مَّغۡفِرَةً مِّنۡهُ وَفَضۡلًاۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ 
(اور دیکھنا) شیطان (کا کہنا نہ ماننا وہ) تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کر نے کو کہتا ہے۔ اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے۔ اور خدا بڑی کشائش والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے
269يُؤۡتِي ٱلۡحِكۡمَةَ مَن يَشَآءُۚ وَمَن يُؤۡتَ ٱلۡحِكۡمَةَ فَقَدۡ أُوتِيَ خَيۡرًا كَثِيرًاۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ 
وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے۔ اور جس کو دانائی ملی بےشک اس کو بڑی نعمت ملی۔ اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
267آیت

ترجمہ — بقرہ 267

سورہ آیت 267/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 265–269. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں