بقرہ · 265/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ۝٢٦٥
Wa masalul lazeena yunfiqoona amwaalahumub ti ghaaaa`a mardaatil laahi wa tasbeetam min anfusihim kamasali jannatim birabwatin asaabahaa waabilun fa aatat ukulahaa di`faini fa il lam yusibhaa waabilun fatall; wallaahu bimaa ta`maloona Baseer
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللہِ: اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کو تلاش کرنا۔
  • تَثْبِیتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ: اپنے دلوں کی تصدیق اور یقین کے ساتھ، یعنی ان کے دل اللہ کے وعدے پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔
  • جَنَّةٍ: باغ، بستان۔
  • رَبْوَةٍ: اونچی اور ہموار زمین، جہاں نہ پانی ٹھہرتا ہے نہ وہ پانی سے دور رہتا ہے، اس لیے اس کی زمین عمدہ ہوتی ہے۔
  • وَابِلٌ: زوردار اور موسلا دھار بارش۔
  • أُکُلَهَا: اس کا پھل، اس کی پیداوار۔
  • ضِعْفَیْنِ: دو گنا، دگنا پھل۔
  • طَلٌّ: ہلکی بارش، پھوار جو دیرپا ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان مخلص مومنین کے صدقات اور نفقات کی مثال بیان فرماتا ہے جو اپنے مال کو صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں، اور ان کے دلوں میں اللہ کے وعدے پر کامل یقین ہوتا ہے۔ وہ اس یقین کے ساتھ خرچ کرتے ہیں کہ اللہ انہیں بے حساب اجر دے گا، اور ان کا دل اس پر مطمئن ہوتا ہے۔ ان کی یہ نفقات اس سرسبز باغ کی مانند ہے جو اونچی اور عمدہ زمین پر واقع ہو۔ اگر اس پر موسلا دھار بارش برسے تو وہ دگنا پھل دیتا ہے، اور اگر زوردار بارش نہ بھی ہو تو ہلکی پھوار ہی اس کے لیے کافی ہوتی ہے، کیونکہ زمین خود زرخیز اور عمدہ ہے۔

اسی طرح مخلص مومن کا صدقہ، چاہے وہ زیادہ ہو یا کم، اللہ کے ہاں قبول ہوتا ہے اور اس کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اصل چیز مال کی مقدار نہیں بلکہ دلی خلوص اور نیت کی پاکیزگی ہے۔ جس طرح عمدہ زمین ہر حال میں پھل دیتی ہے، اسی طرح مخلص دل سے نکلا ہوا ہر درہم اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہر عمل کو دیکھنے والا ہے، وہ جانتا ہے کہ کون ریاکاری کے لیے خرچ کرتا ہے اور کون خالص اللہ کی رضا کے لیے۔ وہ ہر ایک کو اس کی نیت کے مطابق جزا دے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا، بلکہ اللہ اسے برکت دیتا ہے اور اس کا اجر کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ جس طرح ایک چھوٹا سا بیج عمدہ زمین میں پڑ کر درخت بن جاتا ہے اور سینکڑوں پھل دیتا ہے، اسی طرح ہمارا چھوٹا سا صدقہ بھی اللہ کے ہاں بڑھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دل کو خلوص سے بھریں، ریاکاری اور دکھاوے سے بچیں، اور یقین رکھیں کہ اللہ ہماری چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی ضائع نہیں کرتا۔ اللہ کی رحمت اور سخاوت کا کوئی حد نہیں، وہ ہر عمل کا بدلہ دینے والا ہے، اور اس کی نظر ہمارے ظاہر اور باطن دونوں پر ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 263-267 — بقرہ

263۞ قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ۗ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ
جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپروا اور بردبار ہے
264يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
265وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے
266أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)
267يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ
مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ خدا بےپروا (اور) قابل ستائش ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
265آیت

ترجمہ — بقرہ 265

سورہ آیت 265/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 263–267. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں