نور · 63/64
ترجمہ تلفظ — نور
لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝٦٣
La taj`aloo du`aaa`ar Rasooli bainakum kadu`aaa`i badikum ba`daa; qad ya`lamul laahul lazeena yatasallaloona minkum liwaazaa; fal yahzaril lazeena yukhaalifoona `an amriheee an tuseebahum fitnatun aw yuseebahum `azaabun aleem
📖 اردو ترجمہ
مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • دُعَاءَ الرَّسُولِ: رسول اللہ ﷺ کو پکارنا یا ان کی دعوت کو لبیک کہنا۔
  • کَدُعَاءِ بَعْضِکُم بَعْضًا: جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو۔
  • یَتَسَلَّلُونَ: چپکے سے نکل جانا، ایک ایک کر کے کھسک جانا۔
  • لِوَاذًا: ایک دوسرے کی آڑ لے کر، چھپ کر۔
  • فِتْنَۃٌ: آزمائش، مصیبت، یا گمراہی۔
  • عَذَابٌ أَلِیمٌ: دردناک عذاب۔

تفسیر:

اے ایمان والو! رسول اللہ ﷺ کو پکارنے کا انداز تمہارے آپس کے معمول کے مطابق نہ ہو۔ جب تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو تو نام لے کر پکارتے ہو، لیکن نبی کریم ﷺ کو اس طرح "یا محمد" یا "یا ابن عبداللہ" کہہ کر نہ پکارو، بلکہ ادب اور تعظیم کے ساتھ "یا نبی اللہ"، "یا رسول اللہ" کہو۔ یہ صرف ظاہری الفاظ کا مسئلہ نہیں، بلکہ دل میں رسول اللہ ﷺ کی عظمت اور محبت کا اظہار ہے۔ اسی طرح جب رسول اللہ ﷺ تمہیں کسی کام کے لیے بلائیں تو اسے معمولی نہ سمجھو، بلکہ فوراً لبیک کہو اور جلدی کرو، کیونکہ یہ دعوت وحی اور ہدایت پر مبنی ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ان منافقوں کو خوب جانتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی مجلس سے چپکے سے نکل جاتے ہیں، ایک دوسرے کی آڑ لے کر بھاگتے ہیں، تاکہ کسی کو خبر نہ ہو۔ وہ اپنے اس فعل کو چھپاتے ہیں، لیکن اللہ کے علم سے کچھ پوشیدہ نہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ سخت تنبیہ فرماتا ہے: جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آزمائش آ پڑے، جیسے دل کی گمراہی، دنیا کی مصیبت، یا آخرت میں دردناک عذاب۔ یہ ڈر اس لیے ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا حکم دراصل اللہ کا حکم ہے، اور اس کی مخالفت ایمان کے خلاف ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت اور ادب کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ آج اگر ہم نبی کریم ﷺ کو اپنے قول و فعل میں نہیں دیکھ سکتے، تو ان کی سنت کو زندہ کریں، ان کے نام پر درود بھیجیں، اور ان کے حکم کو اپنی زندگی میں مقدم رکھیں۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اپنا شعار بنا لے، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہے۔ اللہ ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 61-64 — نور

61لَّيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا مِن بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُم مَّفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
62إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَىٰ أَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا حَتَّىٰ يَسْتَأْذِنُوهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
63لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو
64أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قَدْ يَعْلَمُ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ وَيَوْمَ يُرْجَعُونَ إِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ جس (طریق) پر تم ہو وہ اسے جانتا ہے۔ اور جس روز لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو لوگ عمل کرتے رہے وہ ان کو بتا دے گا۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
نورقرآن فہرست
64آیت
مدنیRevelation
63آیت

ترجمہ — نور 63

سورہ نور آیت 63 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا…

سورہ آیت 63/64 — نور النور (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نور سنیں, نور ترجمہ, نور mp3, نور pdf. آیت 61–64. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں