Duribat `alaihimuz zillatu aina maa suqifooo illaa bihablim minal laahi wa hablim minan naasi wa baaa`oo bighadabim minallaahi wa duribat `alaihimul maskanah; zaalika bi-annahum kaanoo yakfuroona bi Aayaatil laahi wa yaqtuloonal Ambiyaaa`a bighairi haqq; zaalika bimaa `asaw wa kaanoo ya`tadoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت (کو دیکھو گے کہ) ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آ جائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لیے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتےتھے اور (اس کے) پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
هر جا كه باشند مهر خوارى بر آنها زده شده است، مگر آنكه در امان خدا و در امان مردم باشند. و با خشم خدا قرين شدهاند و مهر بدبختى بر آنها نهادهاند، زيرا به آيات خدا كافر شدند و پيامبران را به ناحق كشتند. و اين بدان سبب بود كه عصيان ورزيدند و تجاوز كردند.
یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت (کو دیکھو گے کہ) ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آ جائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لیے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتےتھے اور (اس کے) پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ: ان پر ذلت و رسوائی مسلط کر دی گئی۔
ثُقِفُوا: جہاں کہیں بھی پائے جائیں، مل جائیں۔
بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ: اللہ کی طرف سے عہد و پناہ (یعنی اسلام قبول کرنا)۔
وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ: لوگوں کی طرف سے عہد و امان (جیسے جزیہ یا امان دینا)۔
بَآؤُا: لوٹے، واپس ہوئے (یعنی مستحق ہو کر لے کر آئے)۔
الْمَسْکَنَةُ: فقر و محتاجی، عاجزی اور ذلت۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بنی اسرائیل کے انجام کو بیان فرمایا ہے کہ ان پر ذلت و رسوائی کا سایہ ہمیشہ کے لیے مسلط کر دیا گیا، چاہے وہ کسی بھی گوشۂ زمین میں ہوں، انہیں ذلیل و خوار ہی رہنا ہے۔ یہ ذلت ان کا مقدر بن چکی ہے، سوائے اس صورت کے کہ وہ اللہ کے عہد (یعنی اسلام قبول کرنے) یا مسلمانوں کی طرف سے دیے گئے امان و جزیہ کے ذریعے پناہ حاصل کر لیں۔ گویا ان کی عزت و حفاظت کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ وہ مسلمانوں کے زیرِ سایہ زندگی گزاریں، ورنہ وہ ہر جگہ ذلیل و خوار ہیں۔
پھر فرمایا کہ وہ اللہ کے غضب کا شکار ہو کر لوٹے، اور ان پر مسکنت (فقر و عاجزی) بھی مسلط کر دی گئی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ ان کی یہ سرکشی اور زیادتی ہی ان کے زوال کا سبب بنی، کیونکہ وہ اللہ کی نافرمانی کرتے رہے اور حدودِ الٰہی سے تجاوز کرتے رہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ اللہ کی نافرمانی اور اس کے رسولوں کی مخالفت کا انجام کتنا برا ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل کو جو کچھ ملا، وہ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ تھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی آیات پر ایمان لائیں، اس کے احکام کی پیروی کریں اور اپنے نبی ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رہیں۔ یہی وہ مضبوط رسی ہے جو ہمیں ذلت سے بچا کر عزت کی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے۔ یاد رکھیں، عزت صرف اللہ کی اطاعت میں ہے، اور جو اللہ سے جڑا رہے گا، اللہ اسے کبھی ذلیل نہیں کرے گا۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں تاکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہوں۔
(مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں
اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی
یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت (کو دیکھو گے کہ) ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آ جائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لیے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتےتھے اور (اس کے) پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے
سورہ آل عمران آیت 112 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت (کو دیکھو گے کہ)…
سورہ آیت 112/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 110–114. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔