آل عمران · 13/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ ۚ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ ۝١٣
Qad kaana lakum Aayatun fee fi`atainil taqataa fi`atun tuqaatilu fee sabeelil laahi wa ukhraa kaafiratuny yarawnahum mislaihim raayal `ayn; wallaahu yu`ayyidu bi nasrihee mai yashaaa`; innaa fee zaalika la `ibratal li ulil absaar
📖 اردو ترجمہ
تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہیں ان کے لیے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • آیت: نشانی، عبرت، دلیل
  • فئتین: دو گروہ
  • التقتا: آمنے سامنے ہوئیں، باہم ٹکرائیں
  • یرونھم مثلیھم: وہ انہیں اپنے سے دوگنا دیکھتے تھے
  • رأی العین: آنکھوں سے دیکھا ہوا، واضح مشاہدہ
  • یؤید: تقویت دیتا ہے، مدد کرتا ہے
  • عبرة: سبق، نصیحت
  • أولی الأبصار: بصیرت والے، عقل والے، سمجھ دار لوگ

تفسیر:

اے یہود کے متکبر اور ضدّی لوگو! تمہارے لیے اس میں بڑی نشانی اور عبرت تھی کہ دو گروہ میدانِ بدر میں آمنے سامنے ہوئے۔ ایک گروہ وہ تھا جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہا تھا، یعنی نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام، جو خالص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے نکلے تھے، نہ کسی دنیاوی فائدے کے لیے اور نہ کسی ذاتی انتقام کے لیے۔ دوسرا گروہ کافروں کا تھا، جو مکہ کے مشرکین تھے، جو فخر، ریاکاری اور عصبیت کی وجہ سے میدان میں اترے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے مؤمن بندوں کی آنکھوں میں کافروں کی تعداد دوگنی دکھائی، تاکہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کی قدرت کا مشاہدہ کریں۔ پھر اللہ نے اپنی حکمت سے کافروں کو مؤمنوں کی نظر میں کم کر دیا، یہاں تک کہ مؤمنوں نے انہیں اپنے سے کم تعداد میں دیکھا، حالانکہ وہ حقیقت میں زیادہ تھے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک معجزہ تھا، جو آنکھوں سے دیکھا گیا۔

اللہ تعالیٰ اپنی مدد سے جسے چاہتا ہے تقویت دیتا ہے، چاہے اس کے ساتھی کم ہوں اور دشمن زیادہ ہوں۔ اللہ کی مدد کسی عدد اور تعداد پر موقوف نہیں، بلکہ اس کی مشیت اور حکمت پر ہے۔ یہ واقعہ ان لوگوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے جو بصیرت رکھتے ہیں، یعنی وہ لوگ جو ظاہری اسباب سے آگے بڑھ کر اللہ کی قدرت اور اس کے وعدوں پر غور کرتے ہیں۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ فتح کا دارومدار ایمان اور اللہ کی مدد پر ہے، نہ کہ کثرتِ تعداد پر۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ کی مدد کا وعدہ سچا ہے۔ جب ہم اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں، خالص نیت سے، تو اللہ ہمیں اپنی غیبی مدد سے نوازتا ہے۔ چاہے ہم کمزور اور کم تعداد میں ہوں، اللہ ہمیں عزت دیتا ہے۔ یہ وہی سنتِ الٰہی ہے جو آج بھی قائم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اللہ پر بھروسہ رکھیں، اور اس کی راہ میں نکلنے والوں کی مدد کریں۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے مؤمن بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی دیتا ہے۔ آئیے ہم بصیرت والے بنیں، آنکھوں سے نہیں بلکہ دل کی آنکھوں سے دیکھیں، اور اللہ کے وعدوں پر یقین رکھیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 11-15 — آل عمران

11كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ۗ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ
ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب (عذاب میں) پکڑ لیا تھا اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
12قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
(اے پیغمبر) کافروں سے کہدو کہ تم (دنیا میں بھی) عنقریب مغلوب ہو جاؤ گے اور (آخرت میں) جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بری جگہ ہے
13قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ ۚ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ
تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہیں ان کے لیے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے
14زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ
لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے
15۞ قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍ مِّن ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(اے پیغمبر ان سے) کہو کہ بھلا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں اچھی ہو (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کے لیے خدا کے ہاں باغات (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
13آیت

ترجمہ — آل عمران 13

سورہ آل عمران آیت 13 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن)…

سورہ آیت 13/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 11–15. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں