لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
در چشم مردم آرايش يافته است، عشق به اميال نفسانى و دوست داشتن زنان و فرزندان و هميانهاى زر و سيم و اسبان داغ برنهاده و چارپايان و زراعت. همه اينها متاع زندگى اينجهانى هستند، در حالى كه بازگشتنگاه خوب نزد خدا است.
لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
شہوات: جمعِ شہوت، نفس کی ان خواہشات کو کہتے ہیں جن کی طرف انسان کا دل کھنچتا ہے۔
قناطیر: قنطار کی جمع، بہت زیادہ مال و دولت۔
مقنطرہ: ڈھیر لگا ہوا، تہہ بہ تہہ جمع شدہ۔
مسومہ: نشان زدہ، خوبصورت اور تیار کی ہوئی (گھوڑے)۔
انعام: اونٹ، گائے، بکری وغیرہ چوپائے۔
حرث: کھیتی باڑی اور زمین جو کاشت کے لیے تیار ہو۔
مآب: لوٹنے کی جگہ، انجام اور ٹھکانہ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے ربانی کلام میں انسان کی فطرت کا وہ راز کھولتے ہیں جو اس کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت کو بڑا خوشنما اور پسندیدہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ خواہشیں ہیں: عورتیں، بیٹے، سونے اور چاندی کے ڈھیر لگے ہوئے خزانے، خوبصورت نشان زدہ گھوڑے، چوپائے (اونٹ، گائے، بکریاں) اور کھیتی باڑی۔ یہ سب چیزیں دنیا کی زندگی کا عارضی سامان اور اس کی ظاہری رونق ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا کرکے انہیں دلکش بنایا ہے تاکہ انسان ان سے لطف اندوز ہو، لیکن یہ سب کچھ فانی ہے، چند دنوں کا جھوٹا سہارا ہے جو آخرکار ختم ہو جاتا ہے۔ مگر اصل کامیابی اور خوبصورت انجام تو اللہ کے پاس ہے، یعنی جنت جو اس کی رحمت اور فضل کا نتیجہ ہے۔ جو شخص ان عارضی چیزوں کو اصل مقصد نہ بنائے اور انہیں اللہ کی اطاعت میں استعمال کرے، وہی کامیاب ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ ہمیں بتا رہے ہیں کہ دنیا کی یہ رونقیں آزمائش کا سامان ہیں، نہ کہ اصل منزل۔ انسان کو چاہیے کہ ان نعمتوں سے لطف اندوز ہو، لیکن دل کو ان سے نہ لگائے، کیونکہ اصل اور دائمی خوشی اللہ کے قرب میں ہے۔ جو شخص ان چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور انہیں اپنے لیے نیکیوں کا ذریعہ بنائے، وہ دنیا بھی پاتا ہے اور آخرت کی بہترین منزل بھی۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ دنیا کی محبتیں اگر اللہ کی محبت پر غالب آجائیں تو وہ ہمارے لیے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ لیکن اگر ہم ان نعمتوں کو اللہ کی رضا کے لیے استعمال کریں، تو یہی چیزیں ہمارے لیے نیکیوں کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ یاد رکھیں، اللہ کے پاس وہ مقام ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا، جنت کی نعمتیں جو ہمیشہ رہنے والی ہیں۔ تو کیوں نہ ہم اپنی محبتوں کو اللہ کی محبت کے تابع کر لیں؟ کیوں نہ ہم اپنے مال، اولاد اور دیگر نعمتوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اس کی رضا حاصل کریں؟ یہی حقیقی کامیابی ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اس خوبصورت انجام تک پہنچائے گا جو اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کیا ہے۔ اللہ ہمیں دنیا کی آزمائشوں سے بچائے اور اپنی رضا کی راہ پر چلائے، آمین۔
تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہیں ان کے لیے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے
لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے
(اے پیغمبر ان سے) کہو کہ بھلا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں اچھی ہو (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کے لیے خدا کے ہاں باغات (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے
سورہ آیت 14/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 12–16. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔