فتح · 11/29
ترجمہ تلفظ — فتح
سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ۚ يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَكُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا ۚ بَلْ كَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ۝١١
Sa yaqoolu lakal mukhal lafoona minal-A`raabi shaighalatnaaa amwaalunaa wa ahloonaa fastaghfir lanaa; yaqooloona bi alsinatihim maa laisa fee quloobihim; qul famany yamliku lakum minal laahi shai`an in araada bikum darran aw araada bikum naf`aa; bal kaanal laahu bimaa ta`maloona Khabeeraa
📖 اردو ترجمہ
جو گنوار پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل وعیال نے روک رکھا آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں۔ یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے۔ کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لئے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • المُخَلَّفُونَ: وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے، یعنی جو سفر میں شریک نہیں ہوئے۔
  • الأَعْرَابِ: صحرائی بدو، دیہاتی عرب۔
  • شَغَلَتْنَا: ہمیں مشغول رکھا۔
  • فَاسْتَغْفِرْ لَنَا: تو ہمارے لیے مغفرت کی دعا کر۔
  • يَمْلِكُ: اختیار رکھتا ہے۔
  • ضَرًّا: نقصان، برائی۔
  • نَفْعًا: فائدہ، بھلائی۔
  • خَبِيرًا: خوب جاننے والا، باخبر۔

تفسیر:

اے نبیِ مکرم! جب آپ صل اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سفر سے واپس تشریف لائے تو وہ صحرائی عرب جو آپ کے ساتھ جانے سے پیچھے رہ گئے تھے، وہ آپ کے پاس آ کر عذر پیش کریں گے اور کہیں گے: "ہمیں ہمارے اموال اور ہمارے اہل و عیال نے مشغول رکھا، اس لیے ہم آپ کے ساتھ نہ جا سکے، آپ ہمارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا فرمائیں۔" یہ لوگ اپنی زبانوں سے ایسی باتیں کہیں گے جو ان کے دلوں میں نہیں ہوں گی، کیونکہ ان کا مقصد صرف بہانہ بازی اور آپ کو راضی کرنا ہے، حقیقت میں انہیں اپنے قصور کا کوئی احساس نہیں اور نہ ہی وہ سچی توبہ کے خواہاں ہیں۔

اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان سے فرمائیں: "اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا کوئی فائدہ دینا چاہے، تو کون ہے جو اللہ کے مقابلے میں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک بن سکے؟ یعنی کوئی نہیں۔ اللہ ہی سب کچھ کرنے پر قادر ہے، تمہارے پیچھے رہنے سے نہ اللہ کا کوئی نقصان ہوتا ہے نہ تمہارے شامل ہونے سے کوئی فائدہ، بلکہ اللہ تو یہ دیکھتا ہے کہ تمہارے دل میں کیا ہے اور تمہارے اعمال کیا ہیں۔"

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تمہارے تمام اعمال سے خوب باخبر ہے، چاہے تم انہیں چھپاؤ یا ظاہر کرو، وہ تمہارے دلوں کے بھیدوں اور تمہارے ارادوں کی نیتوں کو جانتا ہے۔ اس لیے اپنے جھوٹے عذروں سے اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے، اور نہ ہی اپنے نفاق کو چھپا سکتے ہو۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ظاہر اور باطن دونوں کا علم رکھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال اور اقوال میں سچے ہوں، کیونکہ اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نیز یہ کہ دین کے کاموں سے پیچھے رہنے کے لیے عذر تراشنا اور بہانے بنانا منافقانہ روش ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہے، اپنے اموال اور اہل کی محبت کو اللہ اور اس کے رسول کی محبت پر مقدم نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچے دل سے توبہ کرنے اور اپنے دین کی خدمت میں سرگرم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 9-13 — فتح

9لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
تاکہ (مسلمانو) تم لوگ خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کو بزرگ سمجھو۔ اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو
10إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا
جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔ اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا
11سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ۚ يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَكُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا ۚ بَلْ كَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
جو گنوار پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل وعیال نے روک رکھا آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں۔ یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے۔ کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لئے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے
12بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًا بُورًا
بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل وعیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں۔ اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی۔ اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخرکار) تم ہلاکت میں پڑ گئے
13وَمَن لَّمْ يُؤْمِن بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا
اور جو شخص خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہ لائے تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے
فتحقرآن فہرست
29آیت
مدنیRevelation
11آیت

ترجمہ — فتح 11

سورہ فتح آیت 11 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو گنوار پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے…

سورہ آیت 11/29 — فتح الفتح (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فتح سنیں, فتح ترجمہ, فتح mp3, فتح pdf. آیت 9–13. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں