ترجمہ — Tafsir
بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًا بُورًا
معانی الفاظ:
- يَنقَلِبَ: واپس لوٹنا، پلٹ کر آنا۔
- أَهْلِيهِمْ: اپنے گھر والوں کی طرف۔
- زُيِّنَ: خوبصورت بنا کر پیش کیا گیا، خوشنما بنا دیا گیا۔
- ظَنَّ السَّوْءِ: برا گمان، اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں بدگمانی۔
- بُورًا: ہلاک شدہ، برباد، جس میں کوئی خیر نہ ہو۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان منافقین اور کمزور ایمان والوں کو مخاطب کر رہے ہیں جنہوں نے حدیبیہ کے سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا تھا اور اپنے اموال اور اہل و عیال کی دیکھ بھال کا بہانہ بنایا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا اصل عذر یہ نہیں تھا، بلکہ تمہارے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھی کبھی واپس نہیں آئیں گے، وہ سب اس سفر میں ہلاک ہو جائیں گے۔ تم نے یہ گمان کیا کہ مشرکین انہیں نیست و نابود کر دیں گے اور وہ اپنے گھروں کو کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ برا خیال تمہارے دلوں میں شیطان نے ڈالا اور اسے خوبصورت بنا کر پیش کیا، یہاں تک کہ وہ تمہارے دلوں میں پختہ ہو گیا۔ تم نے اللہ کے بارے میں بھی بدگمانی کی کہ وہ اپنے نبی ﷺ کی مدد نہیں کرے گا اور نہ ہی انہیں فتح و کامیابی عطا فرمائے گا۔ یہ تمہارا ظنِ سَوء تھا جو ایمان کے خلاف ہے، کیونکہ مومن کو ہمیشہ اللہ پر اچھا گمان رکھنا چاہیے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم "قومًا بورًا" تھے، یعنی ہلاک شدہ اور برباد لوگ، جن میں کوئی خیر نہیں تھی۔ تمہارا یہ عمل اور یہ گمان اس بات کی دلیل ہے کہ تمہارے دلوں سے خیر نکل چکی تھی اور تم ہلاکت کے راستے پر تھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے، خاص کر اپنے دین کی خدمت کرنے والوں کی۔ ہمیں کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ شیطان ہمیشہ ہمارے دلوں میں برے خیالات ڈالتا ہے، اس لیے ہمیں اس سے بچنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں، اللہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اپنے دلوں کو شیطانی وسوسوں سے پاک رکھیں، کیونکہ بدگمانی ایمان کو کمزور کر دیتی ہے اور انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔
📜 آیت 10-14 — فتح
ترجمہ — فتح 12
سورہ فتح آیت 12 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے…سورہ آیت 12/29 — فتح الفتح (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فتح سنیں, فتح ترجمہ, فتح mp3, فتح pdf. آیت 10–14. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








