فتح · 12/29
ترجمہ تلفظ — فتح
بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًا بُورًا ۝١٢
Bal zanantum al lany yanqalibar Rasoolu walmu`minoona ilaaa ahleehim abadanw wa zuyyina zaalika fee quloobikum wa zanantum zannnas saw`i wa kuntum qawmam booraa
📖 اردو ترجمہ
بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل وعیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں۔ اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی۔ اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخرکار) تم ہلاکت میں پڑ گئے
📜

ترجمہ — Tafsir

بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًا بُورًا

معانی الفاظ:

  • يَنقَلِبَ: واپس لوٹنا، پلٹ کر آنا۔
  • أَهْلِيهِمْ: اپنے گھر والوں کی طرف۔
  • زُيِّنَ: خوبصورت بنا کر پیش کیا گیا، خوشنما بنا دیا گیا۔
  • ظَنَّ السَّوْءِ: برا گمان، اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں بدگمانی۔
  • بُورًا: ہلاک شدہ، برباد، جس میں کوئی خیر نہ ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان منافقین اور کمزور ایمان والوں کو مخاطب کر رہے ہیں جنہوں نے حدیبیہ کے سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا تھا اور اپنے اموال اور اہل و عیال کی دیکھ بھال کا بہانہ بنایا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا اصل عذر یہ نہیں تھا، بلکہ تمہارے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھی کبھی واپس نہیں آئیں گے، وہ سب اس سفر میں ہلاک ہو جائیں گے۔ تم نے یہ گمان کیا کہ مشرکین انہیں نیست و نابود کر دیں گے اور وہ اپنے گھروں کو کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ برا خیال تمہارے دلوں میں شیطان نے ڈالا اور اسے خوبصورت بنا کر پیش کیا، یہاں تک کہ وہ تمہارے دلوں میں پختہ ہو گیا۔ تم نے اللہ کے بارے میں بھی بدگمانی کی کہ وہ اپنے نبی ﷺ کی مدد نہیں کرے گا اور نہ ہی انہیں فتح و کامیابی عطا فرمائے گا۔ یہ تمہارا ظنِ سَوء تھا جو ایمان کے خلاف ہے، کیونکہ مومن کو ہمیشہ اللہ پر اچھا گمان رکھنا چاہیے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم "قومًا بورًا" تھے، یعنی ہلاک شدہ اور برباد لوگ، جن میں کوئی خیر نہیں تھی۔ تمہارا یہ عمل اور یہ گمان اس بات کی دلیل ہے کہ تمہارے دلوں سے خیر نکل چکی تھی اور تم ہلاکت کے راستے پر تھے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے، خاص کر اپنے دین کی خدمت کرنے والوں کی۔ ہمیں کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ شیطان ہمیشہ ہمارے دلوں میں برے خیالات ڈالتا ہے، اس لیے ہمیں اس سے بچنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں، اللہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اپنے دلوں کو شیطانی وسوسوں سے پاک رکھیں، کیونکہ بدگمانی ایمان کو کمزور کر دیتی ہے اور انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 10-14 — فتح

10إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا
جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔ اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا
11سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ۚ يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَكُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا ۚ بَلْ كَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
جو گنوار پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل وعیال نے روک رکھا آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں۔ یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے۔ کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لئے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے
12بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًا بُورًا
بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل وعیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں۔ اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی۔ اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخرکار) تم ہلاکت میں پڑ گئے
13وَمَن لَّمْ يُؤْمِن بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا
اور جو شخص خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہ لائے تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے
14وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے۔ وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
فتحقرآن فہرست
29آیت
مدنیRevelation
12آیت

ترجمہ — فتح 12

سورہ فتح آیت 12 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے…

سورہ آیت 12/29 — فتح الفتح (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فتح سنیں, فتح ترجمہ, فتح mp3, فتح pdf. آیت 10–14. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں