ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یُبَایِعُونَکَ: آپ سے بیعت کرتے ہیں، عہد و پیمان کرتے ہیں۔
- نَکَثَ: عہد توڑا، بیعت سے پھر گیا۔
- أَوْفَى: پورا کیا، وفا کی۔
- عَاهَدَ عَلَیْہُ اللّٰہُ: جس پر اللہ سے عہد کیا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ذریعے تمام امت کو ایک عظیم حقیقت سے آگاہ فرما رہے ہیں۔ جو لوگ حدیبیہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر رہے تھے، درخت کے نیچے بیعتِ رضوان میں شریک ہو رہے تھے، وہ درحقیقت آپ کی ذات سے نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ سے بیعت کر رہے تھے۔ کیونکہ یہ بیعت اللہ کے حکم سے تھی، اللہ کی رضا کے لیے تھی، اور اللہ ہی اس کا بدلہ دینے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ أَیْدِیهِمْ" یعنی اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔ یہ اللہ کی قدرت، اس کی نگرانی اور اس کی حفاظت کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے مطابق اس کا علم رکھتا ہے، ہم اس کی کیفیت نہیں جانتے، نہ اسے کسی چیز سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے، ان کی بیعت کو قبول فرماتا ہے، ان کی نیتوں کو جانتا ہے، اور ان کے دلوں کے رازوں سے واقف ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ دو قسم کے لوگوں کا انجام بیان فرماتا ہے:
- جو عہد توڑیں: جو شخص اس بیعت کو توڑے گا، اس کا نقصان صرف اسی کو ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ وہ اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرے گا، اپنے لیے رسوائی اور محرومی خریدے گا۔
- جو عہد پورا کریں: جو شخص اپنے عہد پر قائم رہے گا، اللہ سے کیے گئے وعدے کو نبھائے گا، صبر کرے گا، دین کی حمایت کرے گا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دے گا، تو اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔ یہ اجر جنت ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر اللہ کی رضا اور اس کا قرب ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہر نیک کام جو ہم اللہ کے لیے کرتے ہیں، وہ درحقیقت اللہ سے ہمارا عہد ہے۔ جب ہم نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں، یا کسی نیک کام میں حصہ لیتے ہیں، تو ہم اللہ سے بیعت کر رہے ہوتے ہیں۔ اللہ ہماری ہر حرکت دیکھ رہا ہے، ہماری ہر نیت جانتا ہے، اور ہمارے ساتھ ہے۔
یہ آیت ہمیں وفاداری کا درس دیتی ہے۔ جس طرح صحابہ کرام نے اپنی جانوں پر کھیل کر بیعت کی اور پھر اس پر قائم رہے، ہمیں بھی اپنے ایمان اور اپنے دین پر قائم رہنا چاہیے۔ جو شخص اپنے ایمان پر قائم رہتا ہے، اللہ اسے کبھی مایوس نہیں کرتا۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ وفادار بندوں کو عظیم اجر دے گا۔
آئیے ہم اپنے دلوں کو اس بات پر مضبوط کریں کہ ہم اللہ کے ساتھ اپنے عہد پر قائم رہیں گے، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔ کیونکہ اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھوں کے اوپر ہے، وہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جو اللہ کے ساتھ ہوتا ہے، اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہی کامیابی کی کنجی ہے۔
📜 آیت 8-12 — فتح
ترجمہ — فتح 10
سورہ فتح آیت 10 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے…سورہ آیت 10/29 — فتح الفتح (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فتح سنیں, فتح ترجمہ, فتح mp3, فتح pdf. آیت 8–12. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








