ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اِذْ: یاد کرو (واقعہ یاد دلانا)
- اَیَّدتُّکَ: میں نے تجھے قوت دی، تائید کی
- رُوحُ الْقُدُسِ: جبرائیل علیہ السلام
- اَلْمَہْد: گہوارہ، بچپن کی عمر
- کَہْلًا: جوانی کی عمر (تیس سال یا اس سے اوپر)
- تَخْلُقُ: بناتے ہو (یہاں صورت گری کے معنی میں)
- کَہَیْئَةِ: جیسی شکل، مشابہ
- اَلْاَکْمَہ: اندھا (پیدائشی نابینا)
- اَلْاَبْرَص: کوڑھی (ایک بیماری جس میں جسم کے داغ پڑ جاتے ہیں)
- کَفَفْتُ: میں نے روک دیا، باز رکھا
- اَلْبَیِّنَات: واضح معجزات اور دلائل
- سِحْرٌ مُبِین: کھلا جادو
تفسیر:
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے فرمائے گا: "اے عیسیٰ ابن مریم! میرے ان انعامات کو یاد کرو جو میں نے تجھ پر اور تیری والدہ پر کیے۔" یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ اپنے بندے اور رسول کو اس کی عظمت اور اپنے فضل و کرم کی یاد دلاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بے شمار معجزات عطا کیے تھے، جن میں سے ایک یہ تھا کہ انہیں روح القدس یعنی جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے قوت دی گئی۔ وہ بچپن میں گہوارے میں تھے کہ لوگوں سے کلام کرتے تھے اور انہیں توحید کی دعوت دیتے تھے، اور جوانی میں بھی نبی بن کر لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔
اللہ نے انہیں کتاب، حکمت، تورات اور انجیل کا علم عطا کیا۔ انہیں یہ معجزہ دیا کہ وہ مٹی سے پرندے کی شکل بناتے، پھر اس میں پھونک مارتے تو وہ اللہ کے حکم سے زندہ پرندہ بن جاتا۔ وہ پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو اللہ کے حکم سے شفا دیتے تھے۔ اور اللہ کے اذن سے مردوں کو زندہ کر دیتے تھے۔ یہ سب کچھ اللہ کی قدرت اور اجازت سے ہوتا تھا، نہ کہ ان کی اپنی طاقت سے۔
پھر اللہ تعالیٰ انہیں یاد دلاتا ہے کہ جب بنی اسرائیل نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا، تو اللہ نے انہیں ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پاس واضح معجزات لے کر آئے، لیکن ان میں سے کافروں نے کہا: "یہ تو صرف کھلا جادو ہے۔"
دعوتی انداز:
پیارے مسلمانو! اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے فضل و انعامات کو یاد رکھنا اور ان کا شکر ادا کرنا کتنا بڑا عمل ہے۔ جب اللہ اپنے نبی کو نعمتیں یاد دلاتا ہے، تو یہ دراصل ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم بھی اپنی زندگی میں اللہ کے دیے ہوئے انعامات کو یاد کریں — صحت، علم، ایمان، امن، خاندان، رزق — یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں۔ جب ہم ان نعمتوں کو یاد کرتے ہیں، تو ہمارے دل میں اللہ کی محبت اور شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور یہی شکر ہمیں اللہ کے قریب کرتا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اللہ کی قدرت بےحد ہے — وہ مٹی سے پرندہ بنا سکتا ہے، مردے کو زندہ کر سکتا ہے، اندھے کو بینا کر سکتا ہے۔ جو اللہ ان سب پر قادر ہے، وہ ہماری مشکلات کو بھی آسان کر سکتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ ہم اس پر کامل یقین رکھیں اور اس کی اطاعت کریں۔
اور جس طرح اللہ نے اپنے نبی کو دشمنوں کے شر سے بچایا، اسی طرح وہ ہر مومن کو اس وقت محفوظ رکھتا ہے جب وہ اس پر بھروسہ کرتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ پر توکل کریں اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ آمین۔
📜 آیت 108-112 — مائدہ
ترجمہ — مائدہ 110
سورہ مائدہ آیت 110 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب خدا (عیسیٰ سے) فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن…سورہ آیت 110/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 108–112. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








