مائدہ · 18/120
ترجمہ تلفظ — مائدہ
وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ ۝١٨
Wa qaalatil Yahoodu wan Nasaaraa nahnu abnaaa`ul laahi wa ahibbaaa`uh; qul falima yu`azzibukum bizunoobikum bal antum basharum mimmman khalaq; yaghfiru limai yashaaa`u wa yu`azzibu mai yashaaa`; wa lillaahi mulkus samaawaati wal ardi wa maa bainahumaa wa ilaihil maseer
📖 اردو ترجمہ
اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَبْنَاءُ اللَّهِ: اللہ کے بیٹے (یہ ان کا جھوٹا دعویٰ تھا
  • أَحِبَّاؤُهُ: اللہ کے محبوب اور چہیتے۔
  • فَلِمَ: تو کیوں؟ (سوالِ انکاری ہے
  • مِمَّنْ خَلَقَ: مخلوقات میں سے ایک بشر (عام انسان
  • الْمَصِيرُ: لوٹ کر جانے کی جگہ (آخرت

تفسیر:

یہود و نصاریٰ (اہلِ کتاب) نے بڑا دعویٰ کیا کہ "ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔" وہ سمجھتے تھے کہ ان کا اللہ سے خاص رشتہ ہے، جیسے باپ اور بیٹے کا تعلق ہوتا ہے، اس لیے ان پر کوئی عذاب نہیں آئے گا اور وہ جنت کے خاص حق دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس باطل دعوے کا ردّ کیا اور فرمایا: اے نبی! ان سے کہو کہ اگر تم واقعی اللہ کے محبوب اور اس کے بیٹے ہو تو پھر اللہ تمہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے عذاب کیوں دے گا؟ محبوب کو عذاب نہیں دیا جاتا، اور باپ اپنے بیٹے کو سزا نہیں دیتا۔ تمہاری اپنی تاریخ گواہ ہے کہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے تم پر مسخ (بندر اور سور بننے) کا عذاب آیا، اور تم خود مانتے ہو کہ آخرت میں تمہیں کچھ دن آگ کا عذاب ہوگا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے فرمایا: "بلکہ تم بھی عام انسان ہو، اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق، جیسے دوسرے لوگ۔ تمہیں کوئی فضیلت حاصل نہیں۔" اللہ کا قانون عدل ہے: جو نیکی کرے گا اسے جزا ملے گی، اور جو برائی کرے گا اسے سزا ملے گی۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے بخش دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے اپنے عدل سے عذاب دیتا ہے۔ کوئی شخص اپنے نسب یا خاندان کی وجہ سے جنت میں نہیں جائے گا، بلکہ ایمان اور عملِ صالح کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا۔

آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت اور قدرت کا ذکر کیا کہ آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کا مالک صرف اللہ ہے۔ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک نہیں۔ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اور وہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی قوم، نسل یا خاندان کی کوئی برتری نہیں۔ اصل برتری تقویٰ اور نیک عمل کی ہے۔ آج بھی کچھ لوگ اپنے نسب، رنگ، زبان یا دنیاوی مرتبے پر فخر کرتے ہیں، لیکن اللہ کے ہاں وہی کامیاب ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو سنواریں، اللہ سے ڈریں اور اس کی رحمت کے طالب رہیں۔ اللہ بہت بخشنے والا ہے، وہ اپنے بندوں کی طرف رجوع کرنے پر انہیں معاف کر دیتا ہے۔ کاش ہم اس عظیم رب کے سامنے جھک جائیں، اس کی اطاعت کریں اور اس کی رحمت کے امیدوار بنیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 16-20 — مائدہ

16يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے
17لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَن يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ۗ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہیں وہ بےشک کافر ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
18وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ
اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
19يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَىٰ فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ أَن تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِن بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ ۖ فَقَدْ جَاءَكُم بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اے اہلِ کتاب پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو (ایک عرصے تک) منقطع رہا تو (اب) تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آ گئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانے والے آ گئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
20وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا وَآتَاكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کیے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا
مائدہقرآن فہرست
120آیت
مدنیRevelation
18آیت

ترجمہ — مائدہ 18

سورہ مائدہ آیت 18 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے…

سورہ آیت 18/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 16–20. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں