Laqad kafaral lazeena qaalooo innal laaha huwal maseehub nu Maryam; qul famany-yamliku minal laahi shai`an in araada ai yuhlikal Maseehab na Maryama wa ummahoo wa man fil ardi jamee`aa, wa lillaahi mmulkus samaawaati wal ardi wa maa bainahumaa; yakhluqu maa Yashaaa`; wakhluqu maa yashaaa`; wallaahu `alaa kulli shai`in Qadeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہیں وہ بےشک کافر ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آنان كه گفتند كه خدا همان مسيح پسر مريم است، كافر شدند. بگوى: چه كسى مىتواند عذاب خدا را دفع كند اگر اراده كند مسيح پسر مريم و مادرش و همه اهل زمين را به هلاكت رساند؟ از آنِ خداست فرمانروايى آسمانها و زمين و هر چه ما بين آنهاست. آنچه مىخواهد مىآفريند و بر هر چيز تواناست.
جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہیں وہ بےشک کافر ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یَمْلِکُ: اختیار رکھنا، قدرت رکھنا
یُہْلِکَ: ہلاک کرنا، تباہ کرنا
قَدِیرٌ: ہر چیز پر قدرت رکھنے والا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کے کفر کا اعلان فرما رہے ہیں جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اللہ خود مسیح ابن مریم ہیں۔ یہ نصرانیوں کا عقیدہ تھا جو انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں گڑھ لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتے ہیں کہ ان جاہلوں سے کہیں: اگر مسیح واقعی اللہ ہوتے جیسا کہ تم دعویٰ کرتے ہو، تو کیا وہ اللہ کے فیصلے کو ٹال سکتے تھے؟ اگر اللہ تعالیٰ یہ چاہے کہ مسیح ابن مریم کو، ان کی والدہ مریم کو اور زمین کے تمام لوگوں کو ہلاک کر دے، تو کون ہے جو اللہ کے اس فیصلے کو روک سکے؟
یہ ایک بہت واضح دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ دونوں اللہ کے بندے تھے، نہ کہ خدا۔ حضرت مریم علیہا السلام کا انتقال ہو چکا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنی موت کا ذائقہ چکھیں گے، جیسا کہ ہر انسان چکھتا ہے۔ اگر وہ خدا ہوتے تو اپنی والدہ کو موت سے بچا سکتے تھے، لیکن وہ اس پر قادر نہ تھے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ محض بشر اور اللہ کے برگزیدہ رسول تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کی ساری بادشاہت اسی کی ہے، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب اسی کی ملکیت ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اس نے حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر باپ اور ماں کے پیدا کیا، حضرت حوا کو بغیر ماں کے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا۔ یہ سب اس کی قدرت کاملہ کا مظاہرہ ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس کی قدرت کے آگے کوئی چیز عاجز نہیں۔
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کو پوری طرح قائم رکھیں اور کسی بھی نبی یا بزرگ کو اللہ کا شریک نہ بنائیں۔ نصرانیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت میں غلو کیا اور انہیں خدا کا درجہ دے دیا، حالانکہ وہ خود اپنی والدہ کی موت نہ روک سکے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو شرک سے بچائیں اور اللہ کی وحدانیت پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر یقین رکھیں کہ وہی خالق، مالک اور مدبر ہے، اور اسی کی عبادت ہمارا مقصدِ حیات ہے۔
اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے
جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے
جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہیں وہ بےشک کافر ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
اے اہلِ کتاب پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو (ایک عرصے تک) منقطع رہا تو (اب) تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آ گئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانے والے آ گئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔