Yaaa Ahlal Kitaabi qad jaaa`akum Rasoolunaa yubaiyinu lakum `alaa fatratim minal Rusuli an taqooloo maa jaaa`anaa mim basheerinw wa laa nazeerin faqad jaaa`akum basheerunw wa nazeer; wallaahu `alaa kulli shai`in Qadeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اے اہلِ کتاب پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو (ایک عرصے تک) منقطع رہا تو (اب) تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آ گئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانے والے آ گئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى اهل كتاب فرستاده ما در دورانى كه پيامبرانى نبودند مبعوث شد تا حق را بر شما آشكار كند و نگوييد كه مژدهدهنده و بيمدهندهاى بر ما مبعوث نشده است. اينك آن مژدهدهنده و بيمدهنده آمده است و خدا بر هر چيز تواناست.
اے اہلِ کتاب پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو (ایک عرصے تک) منقطع رہا تو (اب) تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آ گئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانے والے آ گئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَتْرَةٍ: رسولوں کے سلسلے کا وقفہ، یعنی ایک طویل عرصہ جس میں کوئی نبی مبعوث نہ ہوا۔
بَشِيرٍ: خوشخبری دینے والا (جو ایمان والوں کو جنت کی بشارت دے)۔
نَذِيرٍ: ڈرانے والا (جو نافرمانوں کو عذاب سے خبردار کرے)۔
تفسیر آیت:
اے اہل کتاب (یہود و نصاریٰ)! تمہارے پاس ہمارا رسول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آ چکا ہے، جو تمہیں حق اور ہدایت کی واضح تعلیم دیتا ہے۔ یہ آمد رسولوں کے سلسلے میں ایک طویل وقفے کے بعد ہوئی ہے—حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد تقریباً پانچ سو نوے سال تک کوئی نبی نہیں آیا تھا، اور لوگ ہدایت سے محروم ہو کر گمراہی کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے۔
اس رسول کے بھیجے جانے کا مقصد یہ تھا کہ تمہارے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔ تم یہ نہ کہہ سکو کہ "ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔" کیونکہ اب وہ آ چکا ہے—وہ رسول جو ایمان لانے والوں کو اللہ کی رحمت اور جنت کی خوشخبری دیتا ہے، اور نافرمانوں کو اس کے عذاب سے ڈراتا ہے۔
یاد رکھو! اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جسے چاہے رسول بنا کر بھیجے، جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں، اور وہ اپنے رسول کی اطاعت کرنے والوں کو ثواب دینے اور نافرمانوں کو سزا دینے پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں اللہ کی رحمت اور عدل کا حسین امتزاج دکھاتی ہے۔ اللہ نے کبھی کسی قوم کو بغیر دلیل کے عذاب میں مبتلا نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ رسول بھیج کر حجت قائم کی۔ آج ہمارے پاس قرآن اور سنت موجود ہے—یہ ہمارے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس نعمت کی قدر کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کریں، اور اپنے اعمال کو اس کے مطابق ڈھالیں۔ جو شخص اس ہدایت کو قبول کر لے، وہ کامیاب ہے؛ اور جو اس سے منہ موڑے، وہ اپنے نقصان کا ذمہ دار خود ہے۔ اللہ نے اپنا پیغام پہنچا دیا، اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہیں وہ بےشک کافر ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
اے اہلِ کتاب پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو (ایک عرصے تک) منقطع رہا تو (اب) تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آ گئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانے والے آ گئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کیے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا
تو بھائیو! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) میں جسے خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔