Wa mai yuwallihim yawma`izin duburahooo illaa mutaharrifal liqitaalin aw mutahaiyizan ilaa fi`atin faqad baaa`a bighadabim minal laahi wa maawaahu Jahannamu wa bi`sal maseer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
جز آنها كه براى ساز و برگ نبرد باز مىگردند يا آنها كه به يارى گروهى ديگر مىروند، هر كس كه پشت به دشمن كند مورد خشم خدا قرار مىگيرد و جايگاه او جهنم است، و جهنم بد جايگاهى است.
اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُوَلِّهِمْ دُبُرَهُ: ان کی طرف پیٹھ پھیرے، یعنی میدانِ جنگ سے بھاگے۔
مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ: جنگ کی چال کے طور پر مڑنا، یعنی دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے پیٹھ دکھا کر پھر حملہ کرنے کا ارادہ رکھنا۔
مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَةٍ: کسی جماعتِ مسلمین کی طرف مل جانا، تاکہ ان کے ساتھ مل کر دوبارہ لڑائی جاری رکھے۔
بَاءَ: واپس لوٹا، یعنی اپنے لیے غضبِ الٰہی لے کر لوٹا۔
مَأْوَاهُ: اس کا ٹھکانہ اور رہائش گاہ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ کریمہ میں اہلِ ایمان کو ایک انتہائی اہم ہدایت دی ہے کہ جب تم کافروں کے ساتھ میدانِ جنگ میں مڈبھیڑ کرو، تو ان کے سامنے سے بھاگنا اور پیٹھ پھیرنا سخت حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ جو شخص اس دن یعنی جنگ کے دن اپنی پیٹھ پھیر کر بھاگے گا، وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہوگا اور اس کا انجام جہنم ہے، جو بدترین ٹھکانہ ہے۔
البتہ دو صورتیں اس حکم سے مستثنیٰ ہیں:
مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ: یعنی اگر کوئی سپاہی جنگی چال کے طور پر پیٹھ دکھائے، لیکن اس کا مقصد دشمن کو دھوکہ دینا اور پھر پلٹ کر حملہ کرنا ہو، تو یہ جائز ہے۔ یہ ایک فوجی حکمت عملی ہے، بھاگنا نہیں۔
مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَةٍ: یعنی اگر کوئی سپاہی اپنی جماعت سے الگ ہو گیا ہو اور وہ مسلمانوں کے کسی دوسرے گروہ کی طرف ملنا چاہتا ہو تاکہ ان کے ساتھ مل کر دوبارہ جنگ جاری رکھ سکے، تو یہ بھی جائز ہے۔
یہ حکم اس وقت ہے جب دشمن کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ نہ ہو، لیکن اگر دشمن مسلمانوں سے دوگنا یا اس سے زیادہ ہو، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تخفیف فرمائی ہے، جیسا کہ آگے آیت 66 میں بیان ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی حفاظت چاہتا ہے۔ اس نے جنگ کے اصول سکھائے تاکہ مسلمان کمزور نہ پڑیں اور دشمن کے سامنے بزدلی کا مظاہرہ نہ کریں۔ یہ حکم دراصل مسلمانوں کی عزت اور قوت کو برقرار رکھنے کے لیے ہے۔ جب ہم اللہ کے احکام پر عمل کریں گے، تو اللہ ہماری مدد کرے گا اور ہمیں کبھی ذلیل نہیں کرے گا۔ یاد رکھیں، اللہ کے غضب سے بچنے کا راستہ صرف اطاعت اور صبر ہے، اور جنت کی راہ تقویٰ اور استقامت سے گزرتی ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی عادت ڈالیں، کیونکہ اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔
اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے
تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔