Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یُوَلِّهِمْ دُبُرَهُ: ان کی طرف پیٹھ پھیرے، یعنی میدانِ جنگ سے بھاگے۔
- مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ: جنگ کی چال کے طور پر مڑنا، یعنی دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے پیٹھ دکھا کر پھر حملہ کرنے کا ارادہ رکھنا۔
- مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَةٍ: کسی جماعتِ مسلمین کی طرف مل جانا، تاکہ ان کے ساتھ مل کر دوبارہ لڑائی جاری رکھے۔
- بَاءَ: واپس لوٹا، یعنی اپنے لیے غضبِ الٰہی لے کر لوٹا۔
- مَأْوَاهُ: اس کا ٹھکانہ اور رہائش گاہ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ کریمہ میں اہلِ ایمان کو ایک انتہائی اہم ہدایت دی ہے کہ جب تم کافروں کے ساتھ میدانِ جنگ میں مڈبھیڑ کرو، تو ان کے سامنے سے بھاگنا اور پیٹھ پھیرنا سخت حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ جو شخص اس دن یعنی جنگ کے دن اپنی پیٹھ پھیر کر بھاگے گا، وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہوگا اور اس کا انجام جہنم ہے، جو بدترین ٹھکانہ ہے۔
البتہ دو صورتیں اس حکم سے مستثنیٰ ہیں:
- مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ: یعنی اگر کوئی سپاہی جنگی چال کے طور پر پیٹھ دکھائے، لیکن اس کا مقصد دشمن کو دھوکہ دینا اور پھر پلٹ کر حملہ کرنا ہو، تو یہ جائز ہے۔ یہ ایک فوجی حکمت عملی ہے، بھاگنا نہیں۔
- مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَةٍ: یعنی اگر کوئی سپاہی اپنی جماعت سے الگ ہو گیا ہو اور وہ مسلمانوں کے کسی دوسرے گروہ کی طرف ملنا چاہتا ہو تاکہ ان کے ساتھ مل کر دوبارہ جنگ جاری رکھ سکے، تو یہ بھی جائز ہے۔
یہ حکم اس وقت ہے جب دشمن کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ نہ ہو، لیکن اگر دشمن مسلمانوں سے دوگنا یا اس سے زیادہ ہو، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تخفیف فرمائی ہے، جیسا کہ آگے آیت 66 میں بیان ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی حفاظت چاہتا ہے۔ اس نے جنگ کے اصول سکھائے تاکہ مسلمان کمزور نہ پڑیں اور دشمن کے سامنے بزدلی کا مظاہرہ نہ کریں۔ یہ حکم دراصل مسلمانوں کی عزت اور قوت کو برقرار رکھنے کے لیے ہے۔ جب ہم اللہ کے احکام پر عمل کریں گے، تو اللہ ہماری مدد کرے گا اور ہمیں کبھی ذلیل نہیں کرے گا۔ یاد رکھیں، اللہ کے غضب سے بچنے کا راستہ صرف اطاعت اور صبر ہے، اور جنت کی راہ تقویٰ اور استقامت سے گزرتی ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی عادت ڈالیں، کیونکہ اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔
📜 آیت 14-18 — سورہ انفال
ترجمہ — انفال 16
سورہ انفال آیت 16 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا…سورہ آیت 16/75 — سورہ انفال الأنفال (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ انفال سنیں, سورہ انفال ترجمہ, سورہ انفال mp3, سورہ انفال pdf. آیت 14–18. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 28, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


