انفال · 15/75
ترجمہ تلفظ — انفال
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ ۝١٥
Yaaa aiyuhal lazeena aamanoo izaa laqeetumul lazeena kafaroo zahfan falaa tuwalloohumul adbaar
📖 اردو ترجمہ
اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا
📜

ترجمہ — Tafsir

اے ایمان والو! جب تم کافروں سے میدانِ جنگ میں آمنے سامنے ہو اور وہ بھاری نفری کے ساتھ تمہاری طرف بڑھ رہے ہوں، تو ان سے پیٹھ مت پھیرنا اور نہ ہی بھاگنا۔

معانی الفاظ:

  • زَحْفًا: دشمن کی طرف آہستہ آہستہ بڑھنا، جنگی صف بندی کے ساتھ قریب آنا۔
  • تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ: ان کی طرف اپنی پیٹھ پھیرنا، یعنی میدانِ جنگ سے بھاگ جانا۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو ایک اہم فوجی ہدایت دے رہے ہیں کہ جب تم کافروں سے جنگ کے میدان میں مقابلے کے لیے آؤ اور وہ بھاری تعداد میں تمہاری طرف بڑھ رہے ہوں، تو ان سے پیٹھ نہ پھیرو اور نہ بھاگو۔ یہ حکم اس لیے ہے کہ بھاگنا نہ صرف بزدلی ہے بلکہ مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرتا ہے اور دشمن کو جرأت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ ہے، ان کی مدد کرے گا اور انہیں فتح عطا فرمائے گا، بشرطیکہ وہ ثابت قدم رہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔

یہ حکم صرف اس وقت ہے جب مسلمانوں کی تعداد کم ہو اور دشمن غالب نظر آئے، لیکن اگر جنگی چال کے طور پر پیچھے ہٹنا ہو یا پھر کسی اور مقصد کے لیے پوزیشن تبدیل کرنی ہو، تو اس کی گنجائش ہے۔ تاہم، اصل مقصد یہ ہے کہ مومن کو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے ثابت قدم رہنا چاہیے، کیونکہ فتح دراصل اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، نہ کہ تعداد یا سازوسامان کی کثرت سے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں، چاہے وہ جنگی ہو یا معاشرتی، ہمیں اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے ثابت قدم رہنا چاہیے۔ جب ہم اللہ کی راہ میں ڈٹ جاتے ہیں تو اللہ ہمیں اپنی مدد سے نوازتا ہے۔ یہ حکم ہمارے اندر بہادری، صبر اور استقامت پیدا کرتا ہے، اور ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ اللہ کے ساتھ ہونے والا کبھی شکست نہیں کھاتا۔ آئیے ہم اپنے روزمرہ کے معاملات میں بھی اس حکم پر عمل کریں، چاہے مشکلات کتنے ہی بڑی کیوں نہ ہوں، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 13-17 — انفال

13ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ وَمَن يُشَاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
یہ (سزا) اس لیے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے
14ذَٰلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابَ النَّارِ
یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لیے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار) ہے
15يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ
اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا
16وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے
17فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے
انفالقرآن فہرست
75آیت
مدنیRevelation
15آیت

ترجمہ — انفال 15

سورہ انفال آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار…

سورہ آیت 15/75 — انفال الأنفال (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انفال سنیں, انفال ترجمہ, انفال mp3, انفال pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں