ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یُجَادِلُونَکَ: آپ سے جھگڑتے ہیں، حجت بازی کرتے ہیں۔
- فِی الْحَقِّ: حق کے بارے میں، یعنی جہاد اور قتال کے معاملے میں۔
- تَبَیَّنَ: واضح ہو گیا، ظاہر ہو گیا۔
- یُسَاقُونَ: ہانکے جا رہے ہیں، لے جایے جا رہے ہیں۔
- یَنظُرُونَ: دیکھ رہے ہیں، آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل ایمان کی اس کیفیت سے آگاہ فرما رہے ہیں جو غزوہ بدر کے موقع پر پیش آئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قریش کے لشکر سے مقابلے کی خبر دی اور انہیں جہاد کے لیے تیار ہونے کا حکم دیا، تو بعض مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں گفتگو اور حجت بازی کرنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تو صرف قافلے (عیر) کے لیے نکلے تھے، ہمیں معلوم نہ تھا کہ جنگ ہوگی، اگر ہمیں پہلے بتا دیا جاتا تو ہم اسلحہ اور تیاری کے ساتھ نکلتے۔
یہ جھگڑا اس وقت تھا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنگ کا حکم واضح ہو چکا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں فتح عطا فرمائے گا۔ اس کے باوجود وہ اس حق کے معاملے میں جھگڑ رہے تھے، گویا کہ انہیں موت کی طرف ہانکا جا رہا ہو اور وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ یہ ان کی فطری کمزوری تھی، کیونکہ انسان کو اپنی جان عزیز ہوتی ہے اور موت کا خوف فطری ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں اس پر ملامت فرمائی کہ جب حق واضح ہو چکا تھا تو پھر جھگڑا کیوں؟ انہیں چاہیے تھا کہ حکم الٰہی پر فوراً عمل کرتے اور اپنے نبی کی اطاعت کرتے۔
یہاں سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کا حکم واضح ہو جائے تو پھر اپنی رائے اور پسند کو آگے نہیں رکھنا چاہیے۔ مسلمان کا کام یہ ہے کہ وہ حکم الٰہی کو سنے اور مان لے، چاہے وہ اس کی خواہش کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو وہ اپنے معاملے میں کوئی اختیار رکھیں" (سورۃ الاحزاب: 36)۔
اس آیت میں ایک اور نکتہ یہ بھی ہے کہ جہاد اور اللہ کی راہ میں قربانی کا راستہ مشکل ضرور ہے، لیکن اس کا انجام کامیابی اور سربلندی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب اللہ کے حکم کو مان لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عظیم عطا فرمائی اور ان کے ذریعے اسلام کو غلبہ دیا۔ آج بھی اگر ہم اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو اپنی پسند پر مقدم کر لیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں وہ کامیابیاں عطا فرمائیں گے جو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔
پیارے بھائیو اور بہنو! ہمیں اپنی زندگی کے ہر معاملے میں یہی طرز عمل اپنانا چاہیے۔ جب قرآن و سنت میں کوئی حکم واضح ہو تو اس پر عمل کرنے میں دیر نہ کریں، چاہے وہ ہماری خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حکموں پر بلا چون و چرا عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔
📜 آیت 4-8 — انفال
ترجمہ — انفال 6
سورہ انفال آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے…سورہ آیت 6/75 — انفال الأنفال (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انفال سنیں, انفال ترجمہ, انفال mp3, انفال pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








