ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صدقہ: زکاۃ اور وہ مال جو اللہ کی راہ میں دیا جائے۔
- تطہرہم: انہیں گناہوں کی نجاست سے پاک کرے۔
- تزکیہم: ان کے اعمال کو بڑھائے اور انہیں بلند درجات تک پہنچائے۔
- صل علیہم: ان کے لیے دعا کریں اور مغفرت طلب کریں۔
- سکن: رحمت، اطمینان اور دل کا سکون۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرماتا ہے کہ اے نبی! ان لوگوں کے اموال میں سے زکاۃ اور صدقہ وصول کریں جو توبہ کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ یہ وہ حضرات تھے جنہوں نے غزوہ تبوک میں پیچھے رہ جانے کا گناہ کیا تھا، لیکن پھر اپنی غلطی پر نادم ہو کر آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ہمارے اموال لیجیے اور ہمارے لیے استغفار کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور حکم دیا کہ ان کے اموال سے صدقہ لیں۔
یہ صدقہ ان کے لیے دو عظیم فوائد کا باعث ہے: اول یہ کہ یہ ان کے گناہوں کی نجاست کو دھو دیتا ہے، جیسے پانی میل کچیل کو صاف کر دیتا ہے۔ دوم یہ کہ یہ ان کے درجات کو بلند کرتا ہے، ان کے حسنات میں اضافہ کرتا ہے اور انہیں منافقین کے درجے سے نکال کر مخلصین کے درجے تک پہنچا دیتا ہے۔ گویا زکاۃ محض ایک مالی عبادت نہیں، بلکہ روحانی تطہیر کا ذریعہ ہے جو بندے کے دل کو صاف کرتی ہے اور اسے اللہ کا قرب عطا کرتی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ ان کے لیے دعا کریں، ان کی مغفرت طلب کریں۔ اس میں بہت بڑی حکمت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ان کے لیے رحمت، برکت اور سکون کا باعث بنتی ہے۔ جب نبی کسی امتی کے لیے دعا فرماتا ہے تو اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے، اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اللہ نے اسے معاف کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ آپ کی دعا ان کے لیے سکون ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی صفاتِ عالیہ بیان فرماتا ہے کہ وہ سمیع ہے یعنی ہر دعا اور ہر قول کو سننے والا ہے، اور علیم ہے یعنی ہر بندے کے اعمال اور نیتوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس نے سچی توبہ کی ہے اور کس نے منافقت سے کام لیا ہے۔ چنانچہ وہ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے قیمتی اسباق ملتے ہیں۔ پہلا سبق: یہ کہ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ چاہے بندہ کتنا ہی گناہگار ہو، اگر وہ سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ اسے قبول فرماتا ہے اور اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ دوسرا سبق: یہ کہ زکاۃ اور صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا، بلکہ اللہ اس میں برکت ڈالتا ہے اور بندے کے دل کو پاک کرتا ہے۔ تیسرا سبق: یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے کہ اپنے دلوں کو گناہوں سے پاک رکھیں اور اللہ کے حکموں پر عمل کریں تاکہ ہم بھی اس سکون اور اطمینان کو حاصل کر سکیں جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 101-105 — توبہ
ترجمہ — توبہ 103
سورہ توبہ آیت 103 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ان کے مال میں سے زکوٰة قبول کر لو کہ…سورہ آیت 103/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 101–105. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







