فاتحہ · 7/7
ترجمہ تلفظ — فاتحہ
صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۝٧
Siraatal-lazeena an`amta `alaihim ghayril-maghdoobi `alaihim wa lad-daaalleen
📖 اردو ترجمہ
ان لوگوں کے رستے جن پر تو اپنا فضل وکرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • صِرَاطَ: راستہ، سیدھا راستہ
  • أَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ: جن پر تو نے انعام کیا
  • الْمَغْضُوبِ عَلَیْهِمْ: جن پر غضب کیا گیا
  • الضَّالِّینَ: گمراہ ہونے والے

تفسیر:

اس آیت میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! ہمیں اُس سیدھے راستے پر چلا، جس پر تو نے اپنے ان بندوں کو چلایا جن پر تو نے انعام فرمایا۔ یہ انعام یافتہ بندے کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت اور توفیق عطا فرمائی، یعنی انبیاء علیہم السلام، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو پہچانا، اس پر ایمان لائے اور اس پر عمل کیا۔ یہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جن کی رفاقت ہمارے لیے باعثِ سعادت ہے۔

پھر ہم اللہ سے التجا کرتے ہیں کہ اے اللہ! ہمیں اُن لوگوں کے راستے پر نہ چلا جن پر تیرا غضب نازل ہوا، یعنی وہ لوگ جنہوں نے حق کو جانا مگر اس پر عمل نہ کیا، جیسے یہود اور ان کے ہم خیال لوگ۔ اور نہ ہی ہمیں اُن گمراہ لوگوں کے راستے پر چلا جو حق سے بھٹک گئے، جنہوں نے ہدایت حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، جیسے نصاریٰ اور ان کے پیروکار۔

یہ دعا دراصل ہمارے دل کی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے کہ ہم حق کو پہچاننے والے، اس پر عمل کرنے والے اور اس پر ثابت قدم رہنے والے بنیں۔ یہ دعا ہمیں جہالت، گمراہی اور ڈھٹائی جیسی بیماریوں سے شفا دیتی ہے۔ اس میں سب سے بڑی نعمت اسلام کی نعمت ہے، جو اللہ کی طرف سے سب سے عظیم انعام ہے۔

اس آیت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے، کیونکہ وہ انبیاء کے بعد سب سے زیادہ حق کو جاننے والے اور اس پر عمل کرنے والے تھے۔

نماز میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد "آمین" کہنا مستحب ہے، جس کا مطلب ہے "اے اللہ! قبول فرما"۔ یہ سورۃ فاتحہ کی آیت نہیں ہے، بلکہ ایک دعا ہے جو اللہ سے قبولیت کی درخواست ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ہمیشہ انبیاء اور صالحین کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم علم حاصل کریں، حق کو پہچانیں اور اس پر عمل کریں۔ ہمیں اُن لوگوں کے راستے سے بچنا چاہیے جو حق جانتے ہوئے بھی اس سے منہ موڑ لیتے ہیں، اور اُن لوگوں سے بھی بچنا چاہیے جو جہالت کی وجہ سے گمراہ ہو جاتے ہیں۔ یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ سے سیدھے راستے کی درخواست کریں، کیونکہ سیدھا راستہ ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے انعام یافتہ بندوں کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 5-7 — فاتحہ

5إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
6اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
ہم کو سیدھے رستے چلا
7صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
ان لوگوں کے رستے جن پر تو اپنا فضل وکرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کے
فاتحہقرآن فہرست
7آیت
مکیRevelation
7آیت

ترجمہ — فاتحہ 7

سورہ فاتحہ آیت 7 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ان لوگوں کے رستے جن پر تو اپنا فضل وکرم…

سورہ آیت 7/7 — فاتحہ الفاتحة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فاتحہ سنیں, فاتحہ ترجمہ, فاتحہ mp3, فاتحہ pdf. آیت 5–7. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں