ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَیِّنَة: واضح دلیل، روشن حجت
- رَحْمَة: نبوت اور رسالت
- فَعُمِّیَت: مخفی کر دی گئی، پوشیدہ رہ گئی
- نُلْزِمُکُمُوهَا: ہم تمہیں اس پر مجبور کریں
- کَارِهُون: نا پسند کرنے والے، کراہت رکھنے والے
تفسیر:
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوتِ توحید دی، لیکن ان کی قوم نے سرکشی اور انکار پر اصرار کیا۔ جب قوم کے سرداروں نے آپ سے کہا کہ ہم تمہیں ایک انسان کی صورت میں دیکھتے ہیں اور تمہاری بات ماننے کے لیے تیار نہیں، تو اللہ کے نبی نے انہیں نہایت شفقت اور حکمت کے ساتھ جواب دیا۔
آپ نے فرمایا: "اے میری قوم! بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل (روشن حجت) پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی خاص رحمت (نبوت اور رسالت) عطا کی ہو، جو تمہاری آنکھوں سے مخفی رہ گئی ہو (کیونکہ تمہارے دلوں پر غفلت اور تکبر کا پردہ پڑا ہوا ہے)، تو کیا ہم زبردستی تمہیں اس پر مجبور کر سکتے ہیں جبکہ تم خود اسے ناپسند کرتے ہو؟"
یہ دراصل ایک انتہائی پیار بھرا اور حکمت والا سوال تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام یہ بتانا چاہتے تھے کہ ایمان و ہدایت کوئی جبری چیز نہیں، بلکہ یہ دل کی صداقت اور اللہ کی توفیق سے آتی ہے۔ اگر اللہ نے کسی کو نبوت دی ہے تو یہ اس کی رحمت ہے، لیکن اسے قبول کرنے کے لیے انسان کا دل صاف اور سینہ کھلا ہونا ضروری ہے۔
آپ نے اپنی قوم کو یہ باور کرایا کہ میں تمہیں زبردستی ایمان نہیں لا سکتا، کیونکہ ایمان دل کا معاملہ ہے، اور دل کی راہ نہ تو مجھ پر کھلتی ہے اور نہ ہی میں اس پر قادر ہوں۔ ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ دعوتِ دین میں نرمی، حکمت اور صبر کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے 950 سال تک اپنی قوم کو دعوت دی، لیکن کبھی سختی یا جبر کا راستہ نہیں اپنایا۔ وہ ہمیشہ محبت اور شفقت سے سمجھاتے رہے۔
آج ہمیں بھی چاہیے کہ لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں تو نرمی اور حکمت سے بلائیں، ان پر تنقید نہ کریں، انہیں نیچا نہ دکھائیں، بلکہ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف اور محبت پیدا کریں۔ یاد رکھیں! ہدایت دینا اللہ کا کام ہے، ہمارا کام صرف پہنچانا ہے۔ جس طرح حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے لیے دعا کی اور اللہ پر بھروسہ رکھا، ہمیں بھی اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے دعا اور کوشش دونوں جاری رکھنی چاہیے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ حق پر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوسروں پر برتری جتلائیں، بلکہ حق کی دعوت پیش کرتے وقت عاجزی اور انکساری اختیار کریں، کیونکہ دل صرف نرمی سے نرم ہوتا ہے، اور سختی سے تو پتھر بھی سخت ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نبیوں کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
📜 آیت 26-30 — ہود
ترجمہ — ہود 28
سورہ ہود آیت 28 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیکھو تو اگر میں…سورہ آیت 28/123 — ہود هود (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ہود سنیں, ہود ترجمہ, ہود mp3, ہود pdf. آیت 26–30. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








