ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا: میں تم سے اس (تبلیغِ رسالت) پر کوئی اجرت یا معاوضہ نہیں مانگتا۔
- إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ: میرا ثواب اور اجر صرف اللہ کے ذمے ہے۔
- بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا: میں ایمان لانے والوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں۔
- مُلَاقُو رَبِّهِمْ: وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں (یعنی قیامت کے دن انہیں اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے)۔
- تَجْهَلُونَ: تم جہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو، یعنی تم حقیقت کو نہیں سمجھتے۔
تفسیر:
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے سرداروں اور بڑے لوگوں کے اس مطالبے کے جواب میں یہ بات فرمائی جو انہوں نے کہا تھا کہ "ہم تجھے اپنے برابر نہیں سمجھتے، اور جو غریب اور کمزور لوگ تیرے پیچھے لگ گئے ہیں، انہیں تو اپنے پاس سے دور کر دے۔" اس پر آپ نے فرمایا:
"اے میری قوم! میں تم سے اس دعوتِ حق کے بدلے کوئی مال نہیں مانگتا۔" یعنی میری دعوت خالص اللہ کے لیے ہے، نہ میں تم سے دنیاوی فائدہ چاہتا ہوں اور نہ ہی کوئی معاوضہ۔ میرا اجر اور ثواب صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جو سب سے بڑا دینے والا اور اجر دینے والا ہے۔
پھر فرمایا: "اور میں ایمان لانے والوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں۔" یہ اس لیے کہ قوم کے بڑے لوگوں نے کہا تھا کہ "ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو ان غریبوں کو اپنے پاس سے نہ بھگا دے۔" لیکن نوح علیہ السلام نے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ ایمان لائے ہیں، یہ اللہ کے دوست ہیں، میں انہیں کیسے دور کر سکتا ہوں؟ یہ تو میری دعوت کی اصل دولت ہیں۔
پھر فرمایا: "یقیناً وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں۔" یعنی ان کا انجام بخیر ہے، وہ قیامت کے دن اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے اور اللہ انہیں ان کے ایمان کا اجر دے گا۔ جو لوگ انہیں حقیر سمجھتے ہیں یا انہیں طرد کرنے کا کہتے ہیں، وہ خود اس دن شرمندہ ہوں گے۔
آخر میں فرمایا: "لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم جہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔" یعنی تمہیں حقیقت کا علم نہیں، تم نہیں سمجھتے کہ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار مال اور جاہ نہیں بلکہ ایمان اور تقویٰ ہے۔ تم اپنی جہالت کی وجہ سے ان مومنوں کو حقیر سمجھتے ہو، حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک تم سے بہتر ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ دین کی دعوت خالص اللہ کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ دنیاوی مفاد کے لیے۔ نیز یہ کہ اسلام میں کسی بھی انسان کو اس کی ذات، رنگ، نسل یا دولت کی بنا پر حقیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایمان ہی اصل معیار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں کمزور اور غریب مسلمانوں کی عزت کریں، انہیں اپنے سے دور نہ کریں، بلکہ ان کے ساتھ محبت اور شفقت کا رویہ رکھیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر ایک سے اس کے اعمال کے مطابق سلوک فرمائے گا، نہ کہ اس کے ظاہری مرتبے کے مطابق۔
📜 آیت 27-31 — ہود
ترجمہ — ہود 29
سورہ ہود آیت 29 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اے قوم! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے…سورہ آیت 29/123 — ہود هود (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ہود سنیں, ہود ترجمہ, ہود mp3, ہود pdf. آیت 27–31. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Wednesday, August 19, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








