Faqaalal mala ul lazeena kafaroo min qawmihee ma naraaka illaa basharam mislanaa wa maa naraakat taba`aka illal lazeena hum araazilunaa baadiyar raayi wa maa naraa lakum `alainaa min fadlim bal nazunnukum kaazibeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں۔ اور وہ بھی رائے ظاہر سے (نہ غوروتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
مهتران قومش كه كافر بودند گفتند: ما تو را جز انسانى همانند خويش نمىبينيم. و نمىبينيم كه جز اراذل قوم از تو متابعت كنند. و نمىبينيم كه شما را بر ما فضيلتى باشد، بلكه پنداريم كه دروغ مىگوييد.
فیر قوم کے سرداروں نے کہا: ہم تمہیں اپنے جیسا ایک انسان ہی دیکھتے ہیں، تم میں کوئی ایسی برتری نہیں جو تمہیں ہم سے ممتاز کرے۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہاری پیروی صرف وہی لوگ کر رہے ہیں جو ہم میں سے حقیر اور کم حیثیت ہیں، اور انہوں نے بغیر کسی غور و فکر کے سطحی نظر سے تمہاری بات مان لی ہے۔ ہم تمہارے اس دعوے میں کوئی فضیلت نہیں پاتے جو تمہیں ہم پر حاصل ہو، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔
یہ تھی اس آیت کے اہم الفاظ کی وضاحت، اب آئیے اس کا مکمل مفہوم سمجھیں:
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت توحید دی، لیکن قوم کے متکبر سرداروں نے سرکشی کا راستہ اپنایا۔ انہوں نے تین بڑے اعتراضات اٹھائے: پہلا یہ کہ تم تو ہمارے جیسے عام انسان ہو، کوئی فرشتہ نہیں ہو، پھر تم پر وحی کیسے آ سکتی ہے؟ دوسرا یہ کہ تمہاری پیروی کرنے والے تو صرف ہمارے معاشرے کے کمزور اور حقیر لوگ ہیں، جنہوں نے سوچے سمجھے بغیر تمہاری بات مان لی۔ تیسرا یہ کہ اگر تم سچے ہوتے تو تمہارے پاس کوئی دنیاوی برتری ہوتی، لیکن ہم تم میں کوئی فضیلت نہیں دیکھتے، اس لیے ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ وہی پرانا انداز ہے جو ہر دور کے متکبر لوگ انبیاء کے بارے میں اپناتے رہے ہیں۔ وہ حقیر سمجھتے ہیں ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، حالانکہ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار تقویٰ ہے، نہ کہ مال و دولت یا جاہ و منصب۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی پیروی کرنے میں کبھی شرم محسوس نہ کریں، چاہے دنیا والے ہمیں حقیر ہی کیوں نہ سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کی قوم کے انکار کے باوجود انہیں صبر و استقامت کی تلقین کی، اور ہمیں بھی چاہیے کہ حق پر قائم رہیں، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ یاد رکھیں، اللہ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، اور انجام کار متقیوں کے حق میں ہے۔
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں۔ اور وہ بھی رائے ظاہر سے (نہ غوروتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں۔ اور وہ بھی رائے ظاہر سے (نہ غوروتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں
انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ تو کیا ہم اس کے لیے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو
اور اے قوم! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں، میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، میں ان کو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔