کہف · 21/110
ترجمہ تلفظ — کہف
وَكَذَٰلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ ۖ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِم بُنْيَانًا ۖ رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ ۚ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَىٰ أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا ۝٢١
Wa kazaalika a`sarnaa `alaihim liya`lamooo anna wa`dal laahi haqqunw wa annas Saa`ata laa raiba feehaa iz yatanaaza`oona bainahum amrahum faqaalub noo `alaihim bunyaanaa; Rabbuhum a`lamu bihim; qaalal lazeena ghalaboo `alaaa amrihim lanat takhizanna `alaihim masjidaa
📖 اردو ترجمہ
اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال) سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (جس کا وعدہ کیا جاتا ہے) اس میں کچھ شک نہیں۔ اس وقت لوگ ان کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان (کے غار) پر عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ان (کے حال) سے خوب واقف ہے۔ جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَعْثَرْنَا: ہم نے مطلع کیا، آگاہ کیا۔
  • یَتَنَازَعُونَ: وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے، اختلاف کر رہے تھے۔
  • بُنْیَانًا: عمارت، دیوار۔
  • غَلَبُوا عَلَىٰ أَمْرِهِمْ: جو ان کے معاملے پر غالب آئے، یعنی صاحبانِ اقتدار و اثر و رسوخ۔

تفسیر:

جس طرح ہم نے ان اصحابِ کہف کو کئی سالوں تک سلاتے رہے اور پھر انہیں بیدار کیا، اسی طرح ہم نے ان پر اہلِ شہر کو مطلع کیا۔ یہ اس لیے ہوا کہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ (قیامت اور حشر کا) بالکل سچ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ قیامت آنے والی ہے۔ اس وقت لوگ آپس میں قیامت کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے، کچھ اسے مانتے تھے اور کچھ منکر تھے۔ اللہ نے انہیں اصحابِ کہف پر مطلع کر کے اہلِ ایمان کے لیے کافروں پر حجت قائم کر دی۔

جب اصحابِ کہف کا معاملہ ظاہر ہو گیا اور وہ وفات پا گئے، تو لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ ایک گروہ نے کہا: ان کے غار کے دروازے پر ایک عمارت بنا دو تاکہ وہ محفوظ رہیں، اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو، ان کا رب ان کی حالت سے خوب واقف ہے۔ لیکن دوسرا گروہ جو صاحبِ اقتدار اور بااثر تھا، اس نے کہا: ہم ان کے مقام پر ضرور ایک مسجد بنائیں گے تاکہ لوگ انہیں یاد رکھیں اور وہاں عبادت کریں۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو مسجد بنانے سے منع فرمایا ہے اور ایسا کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔ نیز آپ ﷺ نے قبروں پر عمارت بنانے، انہیں پختہ کرنے اور ان پر لکھنے سے بھی منع کیا، کیونکہ یہ غلو کا سبب بنتا ہے جو آخر کار شرک تک پہنچا سکتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس واقعے میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق اور نصیحت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہے، وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔ اصحابِ کہف کا واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ایمان کی راہ میں مشکلات آئیں تو صبر اور توکل علی اللہ کا دامن نہ چھوڑیں، کیونکہ اللہ ہمیشہ اپنے مخلص بندوں کی مدد کرتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ قیامت کا دن یقینی طور پر آنے والا ہے، اس لیے ہمیں اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارنا چاہیے۔ آئیے ہم سب اس عظیم واقعے سے عبرت حاصل کریں اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں سیدھی راہ پر چلائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو ایمان و یقین کے ساتھ اس کی عبادت کرتے ہیں۔



📜 آیت 19-23 — کہف

19وَكَذَٰلِكَ بَعَثْنَاهُمْ لِيَتَسَاءَلُوا بَيْنَهُمْ ۚ قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ ۖ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۚ قَالُوا رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَٰذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا
اور اس طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کون سا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے
20إِنَّهُمْ إِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فِي مِلَّتِهِمْ وَلَن تُفْلِحُوا إِذًا أَبَدًا
اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے
21وَكَذَٰلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ ۖ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِم بُنْيَانًا ۖ رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ ۚ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَىٰ أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا
اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال) سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (جس کا وعدہ کیا جاتا ہے) اس میں کچھ شک نہیں۔ اس وقت لوگ ان کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان (کے غار) پر عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ان (کے حال) سے خوب واقف ہے۔ جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے
22سَيَقُولُونَ ثَلَاثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَيَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًا بِالْغَيْبِ ۖ وَيَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ ۚ قُل رَّبِّي أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِم مَّا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ ۗ فَلَا تُمَارِ فِيهِمْ إِلَّا مِرَاءً ظَاهِرًا وَلَا تَسْتَفْتِ فِيهِم مِّنْهُمْ أَحَدًا
(بعض لوگ) اٹکل پچو کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملے) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو۔ اور نہ ان کے بارے میں ان میں کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا
23وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا
اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کردوں گا
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
21آیت

ترجمہ — کہف 21

سورہ کہف آیت 21 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال)…

سورہ آیت 21/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 19–23. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں