کہف · 22/110
ترجمہ تلفظ — کہف
سَيَقُولُونَ ثَلَٰثَةٌ رَّابِعُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ وَيَقُولُونَ خَمۡسَةٌ سَادِسُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ رَجۡمَۢا بِٱلۡغَيۡبِۖ وَيَقُولُونَ سَبۡعَةٌ وَثَامِنُهُمۡ كَلۡبُهُمۡۚ قُل رَّبِّيٓ أَعۡلَمُ بِعِدَّتِهِم مَّا يَعۡلَمُهُمۡ إِلَّا قَلِيلٌۗ فَلَا تُمَارِ فِيهِمۡ إِلَّا مِرَآءً ظَٰهِرًا وَلَا تَسۡتَفۡتِ فِيهِم مِّنۡهُمۡ أَحَدًا  ۝٢٢
Sa yaqooloona salaasatur raabi`uhum kalbuhum wa yaqooloona khamsatun saadisuhum kalbuhum rajmam bilghaib; wa yaqooloona sab`atunw wa saaminuhum kalbuhum; qur Rabbeee a`lamu bi`iddatihim maa ya`lamuhum illaa qaleel; falaa tumaari feehim illaa miraaa`an zaahiranw wa laa tastafti feehim minhum ahadaa
📖 اردو ترجمہ
(بعض لوگ) اٹکل پچو کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملے) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو۔ اور نہ ان کے بارے میں ان میں کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • رَجْمًا بِالْغَيْبِ: اندازے سے، بغیر کسی یقینی دلیل کے، صرف ظن و گمان کی بنا پر۔
  • فَلَا تُمَارِ: بحث و مباحثہ نہ کرو، جھگڑا نہ کرو۔
  • مِرَاءً ظَاهِرًا: صرف وہ بحث جو ظاہری اور سطحی ہو، جس میں گہرائی میں جانے کی ضرورت نہ ہو۔
  • وَلَا تَسْتَفْتِ: سوال نہ کرو، استفسار نہ کرو۔

تفسیر:

اے نبی کریم ﷺ! اللہ تعالیٰ آپ کو اصحابِ کہف کے بارے میں وہ حقیقت بتا رہے ہیں جو اہلِ کتاب کے مختلف گروہ آپس میں اختلاف کر رہے تھے۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا، اور کچھ کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ دونوں باتیں محض اندازے اور گمان پر مبنی ہیں، ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں۔ پھر ایک تیسرا گروہ کہے گا کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا، اور یہی قول حق کے قریب ہے جس کی تصدیق اللہ نے اپنی کتاب میں کی۔

اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ فرمائیں: "میرا رب ہی ان کی تعداد کو بہتر جانتا ہے۔" کیونکہ یہ ایک غیب کا معاملہ ہے جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، اور اللہ کے سوا ان کی اصل تعداد کو صرف وہی لوگ جانتے ہیں جنہیں اللہ نے یہ علم عطا فرمایا ہے۔ یہ بہت کم لوگ ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ آپ کو نصیحت فرماتا ہے کہ آپ اصحابِ کہف کی تعداد اور ان کے حالات کے بارے میں اہلِ کتاب سے گہری بحث و مباحثہ نہ کریں، کیونکہ انہیں خود اس کا صحیح علم نہیں۔ صرف اتنا کہیں جو وحی کے ذریعے آپ کو معلوم ہوا ہے، اور ان سے ان کے حالات کے بارے میں سوال بھی نہ کریں، کیونکہ وہ اس معاملے میں علم نہیں رکھتے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں ایک بہت اہم سبق سکھاتی ہے کہ جن امور کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، ان میں الجھنا اور بے بنیاد بحثیں کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی توجہ ان چیزوں پر مرکوز کریں جو ہمارے لیے نفع بخش ہیں، جیسے ایمان، عمل صالح اور اللہ کی اطاعت۔ اصحابِ کہف کا قصہ ہمارے لیے عبرت اور ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ ہے، نہ کہ تعداد کے بارے میں فضول بحث کا موضوع۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ علمِ غیب صرف اللہ کے پاس ہے، اور جو شخص اس میں الجھتا ہے وہ صرف اپنا وقت ضائع کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کے پیغام پر عمل کریں اور ان چیزوں سے بچیں جو ہمیں اللہ کی یاد سے غافل کریں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 20-24 — کہف

20إِنَّهُمۡ إِن يَظۡهَرُواْ عَلَيۡكُمۡ يَرۡجُمُوكُمۡ أَوۡ يُعِيدُوكُمۡ فِي مِلَّتِهِمۡ وَلَن تُفۡلِحُوٓاْ إِذًا أَبَدًا 
اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے
21وَكَذَٰلِكَ أَعۡثَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ لِيَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيهَآ إِذۡ يَتَنَٰزَعُونَ بَيۡنَهُمۡ أَمۡرَهُمۡۖ فَقَالُواْ ٱبۡنُواْ عَلَيۡهِم بُنۡيَٰنًاۖ رَّبُّهُمۡ أَعۡلَمُ بِهِمۡۚ قَالَ ٱلَّذِينَ غَلَبُواْ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيۡهِم مَّسۡجِدًا 
اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال) سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (جس کا وعدہ کیا جاتا ہے) اس میں کچھ شک نہیں۔ اس وقت لوگ ان کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان (کے غار) پر عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ان (کے حال) سے خوب واقف ہے۔ جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے
22سَيَقُولُونَ ثَلَٰثَةٌ رَّابِعُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ وَيَقُولُونَ خَمۡسَةٌ سَادِسُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ رَجۡمَۢا بِٱلۡغَيۡبِۖ وَيَقُولُونَ سَبۡعَةٌ وَثَامِنُهُمۡ كَلۡبُهُمۡۚ قُل رَّبِّيٓ أَعۡلَمُ بِعِدَّتِهِم مَّا يَعۡلَمُهُمۡ إِلَّا قَلِيلٌۗ فَلَا تُمَارِ فِيهِمۡ إِلَّا مِرَآءً ظَٰهِرًا وَلَا تَسۡتَفۡتِ فِيهِم مِّنۡهُمۡ أَحَدًا 
(بعض لوگ) اٹکل پچو کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملے) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو۔ اور نہ ان کے بارے میں ان میں کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا
23وَلَا تَقُولَنَّ لِشَاْيۡءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا 
اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کردوں گا
24إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ وَٱذۡكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلۡ عَسَىٰٓ أَن يَهۡدِيَنِ رَبِّي لِأَقۡرَبَ مِنۡ هَٰذَا رَشَدًا 
مگر (انشاء الله کہہ کر یعنی اگر) خدا چاہے تو (کردوں گا) اور جب خدا کا نام لینا بھول جاؤ تو یاد آنے پر لے لو۔ اور کہہ دو کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
22آیت

ترجمہ — کہف 22

سورہ آیت 22/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں