کہف · 86/110
ترجمہ تلفظ — کہف
حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ مَغۡرِبَ ٱلشَّمۡسِ وَجَدَهَا تَغۡرُبُ فِي عَيۡنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوۡمًاۖ قُلۡنَا يَٰذَا ٱلۡقَرۡنَيۡنِ إِمَّآ أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّآ أَن تَتَّخِذَ فِيهِمۡ حُسۡنًا  ۝٨٦
Hattaaa izaa balagha maghribash shamsi wajadahaaa taghrubu fee `aynin hami`a tinw wa wajada `indahaa qawmaa; qulnaa yaa Zal Qarnaini immaaa an tu`az ziba wa immaaa an tattakhiza feehim husnaa
📖 اردو ترجمہ
یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی۔ ہم نے کہا ذوالقرنین! تم ان کو خواہ تکلیف دو خواہ ان (کے بارے) میں بھلائی اختیار کرو (دونوں باتوں میں تم کو قدرت ہے)
📜

ترجمہ — Tafsir

حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوْمًا ۗ قُلْنَا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَن تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا

معانی الفاظ:

  • مَغْرِبَ الشَّمْسِ: سورج کے غروب ہونے کی جگہ، یعنی مغرب کی انتہائی حد۔
  • عَيْنٍ حَمِئَةٍ: گرم چشمہ جس میں سیاہ کیچڑ ہو۔ "حمئہ" کا مطلب ہے سیاہ مٹی والا پانی۔
  • قَوْمًا: ایک قوم، جو کافر تھی۔
  • تُعَذِّبَ: عذاب دینا، یعنی قتل یا سزا دینا۔
  • تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا: ان کے ساتھ بھلائی کرنا، یعنی انہیں راہِ راست پر لانا یا درگزر کرنا۔

تفسیر:

ذوالقرنین نے اپنے سفرِ عظیم میں مغرب کی طرف بھی کوچ کیا۔ جب وہ سورج کے غروب ہونے کی انتہائی منزل پر پہنچے، تو آنکھوں سے ایسا محسوس ہوا کہ سورج ایک گرم چشمے میں ڈوب رہا ہے جس کی تہہ میں سیاہ کیچڑ تھی۔ یہ ایک ظاہری منظر تھا، حقیقت میں سورج آسمان کے افق میں غروب ہوتا ہے، لیکن وہاں پہنچ کر ایسا نظر آیا۔ اس مقام پر انہیں ایک کافر قوم ملی، جو شرک اور گمراہی میں مبتلا تھی۔

اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو اختیار دیا کہ وہ اس قوم کے ساتھ جو چاہے سلوک کرے: یا تو انہیں عذاب دے (قتل یا سزا) اگر وہ ایمان نہ لائیں، یا ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، یعنی انہیں توحید کی دعوت دے، انہیں سمجھائے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک عظیم الشان بادشاہ کو دیا گیا اختیار تھا، جو عدل اور رحمت کے درمیان توازن قائم کرنے کا درس دیتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور اختیار دیا ہے، لیکن ہر معاملے میں بہترین راستہ یہ ہے کہ ہم رحمت اور حسنِ سلوک کو اپنائیں۔ ذوالقرنین کو جب اختیار دیا گیا، تو انہوں نے حکمت اور عدل سے کام لیا، جیسا کہ آگے چل کر آیت میں آتا ہے کہ انہوں نے پہلے دعوت دی اور پھر فیصلہ کیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے معاملات میں نرمی اور حکمت کو اپنائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ یہ آیت اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ اللہ کی زمین پر اقتدار ایک امانت ہے، اور اس کا صحیح استعمال عدل، رحمت اور دعوتِ حق کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ ظلم اور زیادتی کے لیے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 84-88 — کہف

84إِنَّا مَكَّنَّا لَهُۥ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَءَاتَيۡنَٰهُ مِن كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًا 
ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا
85فَأَتۡبَعَ سَبَبًا 
تو اس نے (سفر کا) ایک سامان کیا
86حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ مَغۡرِبَ ٱلشَّمۡسِ وَجَدَهَا تَغۡرُبُ فِي عَيۡنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوۡمًاۖ قُلۡنَا يَٰذَا ٱلۡقَرۡنَيۡنِ إِمَّآ أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّآ أَن تَتَّخِذَ فِيهِمۡ حُسۡنًا 
یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی۔ ہم نے کہا ذوالقرنین! تم ان کو خواہ تکلیف دو خواہ ان (کے بارے) میں بھلائی اختیار کرو (دونوں باتوں میں تم کو قدرت ہے)
87قَالَ أَمَّا مَن ظَلَمَ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهُۥ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَىٰ رَبِّهِۦ فَيُعَذِّبُهُۥ عَذَابًا نُّكۡرًا 
ذوالقرنین نے کہا کہ جو (کفر وبدکرداری سے) ظلم کرے گا اسے ہم عذاب دیں گے۔ پھر (جب) وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ بھی اسے بُرا عذاب دے گا
88وَأَمَّا مَنۡ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحًا فَلَهُۥ جَزَآءً ٱلۡحُسۡنَىٰۖ وَسَنَقُولُ لَهُۥ مِنۡ أَمۡرِنَا يُسۡرًا 
اور جو ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا اس کے لئے بہت اچھا بدلہ ہے۔ اور ہم اپنے معاملے میں (اس پر کسی طرح کی سختی نہیں کریں گے بلکہ) اس سے نرم بات کہیں گے
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
86آیت

ترجمہ — کہف 86

سورہ آیت 86/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 84–88. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں