ترجمہ — Tafsir
حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوْمًا ۗ قُلْنَا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَن تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا
معانی الفاظ:
- مَغْرِبَ الشَّمْسِ: سورج کے غروب ہونے کی جگہ، یعنی مغرب کی انتہائی حد۔
- عَيْنٍ حَمِئَةٍ: گرم چشمہ جس میں سیاہ کیچڑ ہو۔ "حمئہ" کا مطلب ہے سیاہ مٹی والا پانی۔
- قَوْمًا: ایک قوم، جو کافر تھی۔
- تُعَذِّبَ: عذاب دینا، یعنی قتل یا سزا دینا۔
- تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا: ان کے ساتھ بھلائی کرنا، یعنی انہیں راہِ راست پر لانا یا درگزر کرنا۔
تفسیر:
ذوالقرنین نے اپنے سفرِ عظیم میں مغرب کی طرف بھی کوچ کیا۔ جب وہ سورج کے غروب ہونے کی انتہائی منزل پر پہنچے، تو آنکھوں سے ایسا محسوس ہوا کہ سورج ایک گرم چشمے میں ڈوب رہا ہے جس کی تہہ میں سیاہ کیچڑ تھی۔ یہ ایک ظاہری منظر تھا، حقیقت میں سورج آسمان کے افق میں غروب ہوتا ہے، لیکن وہاں پہنچ کر ایسا نظر آیا۔ اس مقام پر انہیں ایک کافر قوم ملی، جو شرک اور گمراہی میں مبتلا تھی۔
اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو اختیار دیا کہ وہ اس قوم کے ساتھ جو چاہے سلوک کرے: یا تو انہیں عذاب دے (قتل یا سزا) اگر وہ ایمان نہ لائیں، یا ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، یعنی انہیں توحید کی دعوت دے، انہیں سمجھائے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک عظیم الشان بادشاہ کو دیا گیا اختیار تھا، جو عدل اور رحمت کے درمیان توازن قائم کرنے کا درس دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور اختیار دیا ہے، لیکن ہر معاملے میں بہترین راستہ یہ ہے کہ ہم رحمت اور حسنِ سلوک کو اپنائیں۔ ذوالقرنین کو جب اختیار دیا گیا، تو انہوں نے حکمت اور عدل سے کام لیا، جیسا کہ آگے چل کر آیت میں آتا ہے کہ انہوں نے پہلے دعوت دی اور پھر فیصلہ کیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے معاملات میں نرمی اور حکمت کو اپنائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ یہ آیت اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ اللہ کی زمین پر اقتدار ایک امانت ہے، اور اس کا صحیح استعمال عدل، رحمت اور دعوتِ حق کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ ظلم اور زیادتی کے لیے۔
📜 آیت 84-88 — کہف
ترجمہ — کہف 86
سورہ آیت 86/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 84–88. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








