ظَلَمَ: یہاں ظلم سے مراد شرک اور کفر ہے، یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔
نُعَذِّبُهُ: ہم اسے سزا دیں گے۔
عَذَابًا نُّکْرًا: ایسا عذاب جو نہایت سخت، بھیانک اور ناقابلِ تصور ہو۔
تفسیر:
حضرت ذو القرنین علیہ السلام نے جب اُس قوم کے سامنے اپنا مؤقف پیش کیا تو انہوں نے صاف اور دوٹوک انداز میں اعلان فرمایا: جس شخص نے ظلم کیا یعنی اللہ کے ساتھ شرک کیا اور اپنے رب کی نافرمانی پر اڑا رہا، تو ہم اسے دنیا میں سزا دیں گے۔ یہ سزا قتل کی صورت میں ہوگی، کیونکہ شرک و کفر سب سے بڑا ظلم ہے اور ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں سخت سزا مقرر ہے۔ پھر وہ شخص اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ اسے آخرت میں ایسا عذاب دے گا جو انتہائی شدید، ہولناک اور ناقابلِ برداشت ہوگا۔ یہ عذاب دنیا کی سزا سے کہیں زیادہ سخت اور دائمی ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ساتھ ساتھ اس کا عذاب بھی بہت شدید ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم شرک اور کفر سے بچیں اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائیں۔ حضرت ذو القرنین کا یہ اندازِ گفتگو ہمیں سکھاتا ہے کہ حق پر استقامت اور عدل و انصاف کا دامن کبھی نہ چھوڑیں۔ جو لوگ ظلم اور شرک پر اصرار کریں، ان کے لیے آخرت میں سخت عذاب ہے، لیکن جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، ان کے لیے بہترین اجر اور جنت کی خوشخبری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شرک سے بچائے اور ایمان و تقویٰ پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی۔ ہم نے کہا ذوالقرنین! تم ان کو خواہ تکلیف دو خواہ ان (کے بارے) میں بھلائی اختیار کرو (دونوں باتوں میں تم کو قدرت ہے)
اور جو ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا اس کے لئے بہت اچھا بدلہ ہے۔ اور ہم اپنے معاملے میں (اس پر کسی طرح کی سختی نہیں کریں گے بلکہ) اس سے نرم بات کہیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔