یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اور بخشش چھوڑ کر عذاب خریدا۔ یہ (آتش) جہنم کی کیسی برداشت کرنے والے ہیں!
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اشْتَرَوُا: انہوں نے خرید لیا، یعنی بدل دیا۔
الضَّلَالَةَ: گمراہی، کفر اور گناہ۔
بِالْهُدَىٰ: ہدایت اور ایمان کے بدلے۔
وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ: عذاب کو مغفرت اور بخشش کے بدلے۔
فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ: یہ تعجب کا انداز ہے، یعنی یہ لوگ آگ پر کتنے صابر ہیں! (یعنی انہوں نے ایسے کام کیے جو انہیں جہنم میں لے جائیں گے، گویا وہ جہنم کی آگ پر صبر کرنے کے لیے تیار ہیں)۔
تفسیر:
یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو علمِ حق کو چھپاتے ہیں اور دنیا کے فائدے کے لیے اللہ کے احکام کو مسخ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی، یعنی ایمان اور سیدھے راستے کو چھوڑ کر کفر اور ضلالت کو اپنا لیا۔ انہوں نے اللہ کی مغفرت اور بخشش کو ٹھکرا کر عذاب کو خرید لیا۔ یہ ایسا سودا ہے جو سراسر نقصان ہے، کیونکہ انہوں نے قیمتی چیز کو چھوڑ کر بے قیمت اور تباہ کن چیز کو اپنا لیا۔
پھر اللہ تعالیٰ تعجب کا اظہار فرماتا ہے کہ یہ لوگ جہنم کی آگ پر کتنے صابر ہیں! یعنی وہ ایسے کام کرتے ہیں جو انہیں جہنم کی طرف لے جاتے ہیں، گویا وہ اس آگ میں جلنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ ان کی جہالت اور حماقت کی انتہا ہے کہ وہ دنیا کے معمولی فائدے کے لیے آخرت کی دائمی نعمتوں کو کھو دیتے ہیں اور ابدی عذاب کو اپنے لیے خرید لیتے ہیں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ علم اور ایمان اللہ کے بہترین تحفے ہیں، انہیں کبھی دنیاوی مفادات کے بدلے فروخت نہیں کرنا چاہیے۔ جو شخص حق کو چھپاتا ہے یا اسے مسخ کرتا ہے، وہ دراصل اپنے آپ کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہدایت کو مضبوطی سے تھامیں، ایمان پر قائم رہیں، اور اللہ کی مغفرت کے طلب گار بنیں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرمائے اور ہمیں گمراہی اور عذاب سے بچائے۔ آمین۔
اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے ہاں جو ناچار ہوجائے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے
جو لوگ (خدا) کی کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن نہ کلام کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا۔اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے
نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔ اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔