Yas`aloonaka `anil ahillati qul hiya mawaaqeetu linnaasi wal Hajj; wa laisal birru bi an taatul buyoota min zuhoorihaa wa laakinnal birra manit taqaa; waatul buyoota min abwaa bihaa; wattaqullaaha la`allakum tuflihoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ۔ بلکہ نیکوکار وہ ہے جو پرہیز گار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
از تو درباره هلالهاى ماه مىپرسند، بگو: براى آن است كه مردم وقت كارهاى خويش و زمان حجّ را بشناسند. و پسنديده نيست كه از پشت خانهها به آنها داخل شويد، ولى پسنديده راه كسانى است كه پروا مىكنند و از درها به خانهها درآييد و از خدا بترسيد تا رستگار شويد.
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ۔ بلکہ نیکوکار وہ ہے جو پرہیز گار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الْأَهِلَّةِ: ہلال کی جمع، چاند کے وہ ٹکڑے جو مہینے کی ابتدا، وسط اور انتہا میں مختلف شکلوں میں نظر آتے ہیں۔
مَوَاقِيتُ: میقات کی جمع، یعنی وقت مقرر کرنے کے لیے علامات اور پیمانے۔
الْبِرُّ: نیکی، بھلائی، اور تقویٰ پر مبنی عمل۔
مِن ظُهُورِهَا: گھروں کے پچھلے حصے سے (دروازے کے بجائے دیوار کے پیچھے سے داخل ہونا)۔
تفسیر:
اے نبی! لوگ آپ سے چاند کی ان بدلتی ہوئی شکلوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہ کبھی باریک لکیر بن کر نکلتا ہے، پھر آہستہ آہستہ بڑھتا ہے یہاں تک کہ مکمل چودھویں کا چاند بن جاتا ہے، پھر دوبارہ گھٹتا جاتا ہے۔ ان کے اس سوال کا جواب دیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان ہلالوں کو لوگوں کے لیے وقت مقرر کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ انہیں دیکھ کر لوگ اپنے دینی معاملات جیسے روزے، حج، زکوٰۃ کی ادائیگی کے اوقات معلوم کرتے ہیں، اور دنیاوی معاملات جیسے کھیتی باڑی، تجارت، قرض کی میعاد، اور عورتوں کے ایام وغیرہ کا حساب رکھتے ہیں۔ یہی حکمت ہے کہ چاند کی شکل بدلتی رہتی ہے تاکہ لوگ آسانی سے مہینوں اور سالوں کا شمار کر سکیں۔
پھر اللہ تعالیٰ ایک اور جاہلی رسم کی اصلاح فرماتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ جب حج یا عمرے کے لیے احرام باندھتے تھے تو وہ گھر کے دروازے سے داخل ہونے کو برا سمجھتے تھے اور چھت یا دیوار کے پیچھے سے گھر میں داخل ہوتے تھے، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ نیکی اور تقویٰ کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کوئی نیکی نہیں ہے، حقیقی نیکی تو یہ ہے کہ انسان اللہ سے ڈرے، اس کے احکام پر عمل کرے اور گناہوں سے بچے۔ لہٰذا تم لوگ گھروں میں دروازوں سے داخل ہوا کرو، کیونکہ یہی آسان اور فطری طریقہ ہے، اور اللہ نے تم پر کوئی سختی نہیں رکھی۔
آخر میں اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین فرماتا ہے، کیونکہ تقویٰ ہی وہ چیز ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیوں تک پہنچاتی ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈر کر اپنے اعمال درست کر لیتا ہے، وہی حقیقی کامیابی پاتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام ایک آسان اور فطری دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کو ایک حکمت کے ساتھ بنایا ہے، چاند کی بدلتی ہوئی شکلیں بھی انسانوں کے لیے رحمت ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کو سمجھیں اور جاہلی رسومات اور بے بنیاد توہمات کو چھوڑ کر اللہ کے بتائے ہوئے آسان راستے پر چلیں۔ اصل نیکی دکھاوے کا نام نہیں، بلکہ دل کی پاکیزگی اور اللہ سے ڈر کر عمل کرنے کا نام ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو آسان بنائیں، اللہ کے احکام پر عمل کریں اور تقویٰ اختیار کریں تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔
روزوں کی راتوں میں تمہارے لئے اپنی عورتوں کے پاس جانا کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سےدرگزرفرمائی۔اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو۔ اور خدا نے جو چیز تمہارے لئے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو (خدا سے) طلب کرو اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔ پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔ یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں
اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوةً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ۔ بلکہ نیکوکار وہ ہے جو پرہیز گار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ
اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔