بقرہ · 188/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ۝١٨٨
Wa laa taakuloo amwaalakum bainakum bilbaatili wa tudloo bihaaa ilal hukkaami litaakuloo fareeqam min amwaalin naasi bil ismi wa antum ta`lamoon
📖 اردو ترجمہ
اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوةً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بِالْبَاطِلِ: ناحق طریقے سے، بغیر کسی شرعی جواز کے۔
  • وَتُدْلُوا بِهَا: اور اسے (مال کو) آگے بڑھاؤ، یعنی رشوت کے طور پر حاکموں کی طرف پھینکو۔
  • الْحُكَّامِ: قاضیوں اور فیصلہ کرنے والوں کی طرف۔
  • فَرِيقًا: ایک گروہ یا کچھ حصہ۔
  • بِالْإِثْمِ: گناہ کے ساتھ، ظلم و ناانصافی کے ذریعے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہل ایمان کو ایک اہم اخلاقی اور معاشرتی ہدایت دیتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھائے۔ "ناحق" سے مراد ہر وہ ذریعہ ہے جسے شریعت نے جائز نہیں ٹھہرایا، جیسے چوری، ڈاکہ، دھوکہ، جھوٹی قسم، رشوت، سود، غصب، یا کسی کمزور کا حق مارنا۔ یہ سب صورتیں اس حکم میں شامل ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ خاص طور پر اس صورت حال کا ذکر فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اپنے ناحق مطالبات کو ثابت کرنے کے لیے اپنے مال کو حاکموں اور قاضیوں کی طرف رشوت کے طور پر لے جاتے ہیں، تاکہ وہ جھوٹے ثبوتوں اور باطل حجتوں کی بنا پر فیصلہ دے کر دوسرے لوگوں کا مال انہیں دلا دیں۔ یہ انتہائی سنگین جرم ہے، کیونکہ اس میں دوہرا ظلم ہے: ایک طرف رشوت دے کر قاضی کو خریدنا، دوسری طرف بےگناہ لوگوں کا حق مار کر انہیں نقصان پہنچانا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم جانتے بوجھتے ہوئے یہ کام کرتے ہو، یعنی تمہیں علم ہے کہ یہ حرام ہے، پھر بھی تم اس کا ارتکاب کرتے ہو۔ علم کے باوجود گناہ کرنا جہالت کی بنا پر گناہ کرنے سے زیادہ سخت ہے، کیونکہ یہ اللہ کی نافرمانی پر جان بوجھ کر اصرار ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام معاشرے میں عدل و انصاف اور امانت داری کی بنیاد رکھتا ہے۔ مسلمان کا مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اور جو شخص رشوت یا جھوٹے مقدمات کے ذریعے دوسروں کا مال کھاتا ہے، وہ درحقیقت اپنے دین اور آخرت کو تباہ کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حلال روزی کمائیں، رشوت اور ظلم سے بچیں، اور معاشرے میں ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں۔ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا، اور قیامت کے دن ہر حق دار کو اس کا حق دیا جائے گا، چاہے وہ دنیا میں کیسے ہی بھٹک گیا ہو۔ اللہ ہمیں حلال و طیب روزی عطا فرمائے اور ظلم و رشوت سے محفوظ رکھے۔ آمین۔



📜 آیت 186-190 — بقرہ

186وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ
اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں
187أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ۗ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ ۖ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
روزوں کی راتوں میں تمہارے لئے اپنی عورتوں کے پاس جانا کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سےدرگزرفرمائی۔اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو۔ اور خدا نے جو چیز تمہارے لئے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو (خدا سے) طلب کرو اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔ پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔ یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں
188وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوةً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو
189۞ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ۗ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَن تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِن ظُهُورِهَا وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَىٰ ۗ وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ۔ بلکہ نیکوکار وہ ہے جو پرہیز گار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ
190وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
188آیت

ترجمہ — بقرہ 188

سورہ بقرہ آیت 188 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس…

سورہ آیت 188/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 186–190. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں