بقرہ · 190/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَقَٰتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ  ۝١٩٠
Wa qaatiloo fee sabeelillaahil lazeena yuqaatiloonakum wa laa ta`tadooo; innal laaha laa yuhibbul mu`tadeen
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • قاتلوا: جنگ کرو
  • فی سبیل اللہ: اللہ کی راہ میں، اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے
  • الذین یقاتلونکم: جو تم سے جنگ کریں
  • لا تعتدوا: حد سے تجاوز نہ کرو، ظلم نہ کرو
  • المعتدین: حد سے بڑھنے والے، ظلم کرنے والے

تفسیر:

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم ان لوگوں سے جنگ کرو جو خود تم سے جنگ کرتے ہیں، یعنی جو کافر تمہارے خلاف ہتھیار اٹھائیں اور تمہیں اللہ کے دین سے روکنے کی کوشش کریں۔ یہ حکم جہاد فی سبیل اللہ کا ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف اللہ کا کلمہ بلند کرنا ہے، نہ کہ دنیاوی مفادات حاصل کرنا یا کسی پر ظلم کرنا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداءِ اسلام میں مسلمانوں کو مشرکین سے قتال سے روکا تھا، لیکن ہجرت کے بعد جب کفار نے مسلمانوں سے جنگ چھیڑی تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں ان سے جنگ کا حکم دیا گیا۔

ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرمایا کہ حد سے تجاوز نہ کرو۔ یعنی جنگ کے دوران بھی اسلامی اخلاق و آداب کا لحاظ رکھو۔ جنگ صرف انہیں سے کرو جو تم سے لڑ رہے ہیں، لیکن ان لوگوں کو قتل نہ کرو جنہیں قتل کرنا جائز نہیں، جیسے عورتیں، بچے، بوڑھے، راہب اور عبادت گزار، اور نہ ہی قیدیوں پر ظلم کرو، نہ لاشوں کی بےحرمتی کرو، نہ مالِ غنیمت میں خیانت کرو، نہ درختوں کو جلاؤ اور نہ ہی کسی معاہدے کی خلاف ورزی کرو۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ حد سے بڑھنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ جو لوگ اللہ کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف بڑھتے ہیں، وہ اللہ کی رحمت سے محروم رہتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام دینِ امن و سلامتی ہے، لیکن جب ظلم و جبر کا سامنا ہو تو اپنے دین، اپنی عزت اور اپنے وطن کے دفاع کے لیے کھڑا ہونا بھی ضروری ہے۔ اسلام نے جنگ کو بھی اخلاقی اصولوں کا پابند بنایا ہے، تاکہ عدل و انصاف کا دامن کبھی نہ چھوٹے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں ہمیشہ میانہ روی اور اعتدال کو اپنائیں، اور اللہ کی نافرمانی سے بچیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالموں اور حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ اللہ ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رہنے اور ہر حال میں انصاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 188-192 — بقرہ

188وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ وَتُدۡلُواْ بِهَآ إِلَى ٱلۡحُكَّامِ لِتَأۡكُلُواْ فَرِيقًا مِّنۡ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ بِٱلۡإِثۡمِ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ 
اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوةً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو
189۞ يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡأَهِلَّةِۖ قُلۡ هِيَ مَوَٰقِيتُ لِلنَّاسِ وَٱلۡحَجِّۗ وَلَيۡسَ ٱلۡبِرُّ بِأَن تَأۡتُواْ ٱلۡبُيُوتَ مِن ظُهُورِهَا وَلَٰكِنَّ ٱلۡبِرَّ مَنِ ٱتَّقَىٰۗ وَأۡتُواْ ٱلۡبُيُوتَ مِنۡ أَبۡوَٰبِهَاۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ 
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ۔ بلکہ نیکوکار وہ ہے جو پرہیز گار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ
190وَقَٰتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ 
اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
191وَٱقۡتُلُوهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوهُمۡ وَأَخۡرِجُوهُم مِّنۡ حَيۡثُ أَخۡرَجُوكُمۡۚ وَٱلۡفِتۡنَةُ أَشَدُّ مِنَ ٱلۡقَتۡلِۚ وَلَا تُقَٰتِلُوهُمۡ عِندَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَٰتِلُوكُمۡ فِيهِۖ فَإِن قَٰتَلُوكُمۡ فَٱقۡتُلُوهُمۡۗ كَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ 
اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے
192فَإِنِ ٱنتَهَوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 
اور اگر وہ باز آجائیں تو خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
190آیت

ترجمہ — بقرہ 190

سورہ آیت 190/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 188–192. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں