بقرہ · 197/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
ٱلۡحَجُّ أَشۡهُرٌ مَّعۡلُومَٰتٌۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ ٱلۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي ٱلۡحَجِّۗ وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٍ يَعۡلَمۡهُ ٱللَّهُۗ وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيۡرَ ٱلزَّادِ ٱلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُونِ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ  ۝١٩٧
Al-Hajju ashhurum ma`-loomaat; faman farada feeinnal hajja falaa rafasa wa laa fusooqa wa laa jidaala fil Hajj; wa maa taf`aloo min khairiny ya`lamhul laah; wa tazawwadoo fa inna khairaz zaadit taqwaa; wattaqooni yaaa ulil albaab
📖 اردو ترجمہ
حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زاد راہ (کا) پرہیزگاری ہے اور اے اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أشهر معلومات: معروف مہینے، یعنی شوال، ذو القعدہ اور ذو الحجہ کے پہلے دس دن۔
  • فرض: اپنے اوپر لازم کر لینا، یعنی احرام باندھ کر حج کی نیت کرنا۔
  • رفث: جماع (مباشرت) اور اس سے متعلق گفتگو یا اشارے۔
  • فسوق: گناہ اور نافرمانی، ہر قسم کا معصیت۔
  • جدال: جھگڑا، لڑائی، بحث و تکرار۔
  • زاد: راستے کا سامان، توشہ۔
  • تقویٰ: اللہ کا خوف اور پرہیزگاری۔
  • أولی الألباب: عقل والے، سمجھ دار لوگ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ حج کا وقت مخصوص مہینوں میں ہے، جو سب کو معلوم ہیں، یعنی شوال، ذو القعدہ اور ذو الحجہ کے ابتدائی دس دن۔ انہیں مہینوں میں حج کی ادائیگی ہوتی ہے، اس سے پہلے یا بعد میں حج ادا نہیں ہو سکتا۔

پھر فرمایا کہ جو شخص ان مہینوں میں احرام باندھ کر حج کو اپنے اوپر لازم کر لے، تو اس کے لیے حج کے دوران جماع اور اس کی مقدمات (جیسے شہوت کی گفتگو یا اشارے) حرام ہیں، اور ہر قسم کا گناہ اور نافرمانی بھی حرام ہے، کیونکہ یہ مقدس وقت اور مقام ہے۔ نیز جھگڑا اور لڑائی بھی منع ہے، کیونکہ جدال سے دل میں غصہ اور کینہ پیدا ہوتا ہے، جس سے حج کی روحانی برکتیں ختم ہو جاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم جو بھی نیکی اور بھلائی کرو گے، وہ سب اللہ کے علم میں ہے، اور وہ تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی، چاہے وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔

پھر اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ حج کے سفر کے لیے اپنے ساتھ زادِ راہ (کھانے پینے کا سامان) لے جاؤ، تاکہ تمہیں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا نہ پڑے اور تم اپنے سفر میں آسانی سے رہو۔ لیکن یاد رکھو کہ سب سے بہتر زاد تقویٰ ہے، یعنی اللہ کا خوف اور پرہیزگاری، جو آخرت کے سفر کے لیے بھی بہترین توشہ ہے۔ جس طرح تم دنیا کے سفر کے لیے سامان لے جاتے ہو، اسی طرح آخرت کے سفر کے لیے نیک اعمال کا زاد ضرور تیار کرو۔

آخر میں اللہ تعالیٰ اہلِ عقل کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ اے سمجھ دار لوگو! مجھ سے ڈرو اور میرے احکام کی پیروی کرو۔ جو شخص عقل رکھتا ہے، وہ اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے اور اپنے رب کی رضا کے لیے کام کرتا ہے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حج صرف ایک رسم نہیں، بلکہ روحانی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ جب انسان حج کے دوران گناہوں، جھگڑوں اور شہوانی خواہشات سے بچتا ہے، تو اس کا دل پاک ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حج کے ان اخلاقی اصولوں کو اپنی پوری زندگی میں اپنائیں، تاکہ ہر وقت اللہ کی رضا کے حامل بن سکیں۔ یاد رکھیں، تقویٰ ہی وہ زاد ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کام آتا ہے، اور یہی وہ دولت ہے جو ہمیں اللہ کی محبت اور بخشش تک پہنچاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حج کے بہترین آداب سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 195-199 — بقرہ

195وَأَنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا تُلۡقُواْ بِأَيۡدِيكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ وَأَحۡسِنُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ 
اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بےشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
196وَأَتِمُّواْ ٱلۡحَجَّ وَٱلۡعُمۡرَةَ لِلَّهِۚ فَإِنۡ أُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۖ وَلَا تَحۡلِقُواْ رُءُوسَكُمۡ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ ٱلۡهَدۡيُ مَحِلَّهُۥۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوۡ بِهِۦٓ أَذًى مِّن رَّأۡسِهِۦ فَفِدۡيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوۡ صَدَقَةٍ أَوۡ نُسُكٍۚ فَإِذَآ أَمِنتُمۡ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلۡعُمۡرَةِ إِلَى ٱلۡحَجِّ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۚ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٍ فِي ٱلۡحَجِّ وَسَبۡعَةٍ إِذَا رَجَعۡتُمۡۗ تِلۡكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمۡ يَكُنۡ أَهۡلُهُۥ حَاضِرِي ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ 
اور خدا (کی خوشنودی) کے لئے حج اور عمرے کو پورا کرو۔ اور اگر (راستےمیں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو) اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ۔ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈالے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو کرے۔ اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو۔ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل وعیال مکے میں نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے
197ٱلۡحَجُّ أَشۡهُرٌ مَّعۡلُومَٰتٌۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ ٱلۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي ٱلۡحَجِّۗ وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٍ يَعۡلَمۡهُ ٱللَّهُۗ وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيۡرَ ٱلزَّادِ ٱلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُونِ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ 
حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زاد راہ (کا) پرہیزگاری ہے اور اے اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو
198لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَبۡتَغُواْ فَضۡلًا مِّن رَّبِّكُمۡۚ فَإِذَآ أَفَضۡتُم مِّنۡ عَرَفَٰتٍ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ عِندَ ٱلۡمَشۡعَرِ ٱلۡحَرَامِۖ وَٱذۡكُرُوهُ كَمَا هَدَىٰكُمۡ وَإِن كُنتُم مِّن قَبۡلِهِۦ لَمِنَ ٱلضَّآلِّينَ 
اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو اور جب عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (یعنی مزدلفے) میں خدا کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا۔ اور اس سے پیشتر تم لوگ (ان طریقوں سے) محض ناواقف تھے
199ثُمَّ أَفِيضُواْ مِنۡ حَيۡثُ أَفَاضَ ٱلنَّاسُ وَٱسۡتَغۡفِرُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 
پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
197آیت

ترجمہ — بقرہ 197

سورہ آیت 197/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 195–199. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں