ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أشهر معلومات: معروف مہینے، یعنی شوال، ذو القعدہ اور ذو الحجہ کے پہلے دس دن۔
- فرض: اپنے اوپر لازم کر لینا، یعنی احرام باندھ کر حج کی نیت کرنا۔
- رفث: جماع (مباشرت) اور اس سے متعلق گفتگو یا اشارے۔
- فسوق: گناہ اور نافرمانی، ہر قسم کا معصیت۔
- جدال: جھگڑا، لڑائی، بحث و تکرار۔
- زاد: راستے کا سامان، توشہ۔
- تقویٰ: اللہ کا خوف اور پرہیزگاری۔
- أولی الألباب: عقل والے، سمجھ دار لوگ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ حج کا وقت مخصوص مہینوں میں ہے، جو سب کو معلوم ہیں، یعنی شوال، ذو القعدہ اور ذو الحجہ کے ابتدائی دس دن۔ انہیں مہینوں میں حج کی ادائیگی ہوتی ہے، اس سے پہلے یا بعد میں حج ادا نہیں ہو سکتا۔
پھر فرمایا کہ جو شخص ان مہینوں میں احرام باندھ کر حج کو اپنے اوپر لازم کر لے، تو اس کے لیے حج کے دوران جماع اور اس کی مقدمات (جیسے شہوت کی گفتگو یا اشارے) حرام ہیں، اور ہر قسم کا گناہ اور نافرمانی بھی حرام ہے، کیونکہ یہ مقدس وقت اور مقام ہے۔ نیز جھگڑا اور لڑائی بھی منع ہے، کیونکہ جدال سے دل میں غصہ اور کینہ پیدا ہوتا ہے، جس سے حج کی روحانی برکتیں ختم ہو جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم جو بھی نیکی اور بھلائی کرو گے، وہ سب اللہ کے علم میں ہے، اور وہ تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی، چاہے وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ حج کے سفر کے لیے اپنے ساتھ زادِ راہ (کھانے پینے کا سامان) لے جاؤ، تاکہ تمہیں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا نہ پڑے اور تم اپنے سفر میں آسانی سے رہو۔ لیکن یاد رکھو کہ سب سے بہتر زاد تقویٰ ہے، یعنی اللہ کا خوف اور پرہیزگاری، جو آخرت کے سفر کے لیے بھی بہترین توشہ ہے۔ جس طرح تم دنیا کے سفر کے لیے سامان لے جاتے ہو، اسی طرح آخرت کے سفر کے لیے نیک اعمال کا زاد ضرور تیار کرو۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اہلِ عقل کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ اے سمجھ دار لوگو! مجھ سے ڈرو اور میرے احکام کی پیروی کرو۔ جو شخص عقل رکھتا ہے، وہ اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے اور اپنے رب کی رضا کے لیے کام کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حج صرف ایک رسم نہیں، بلکہ روحانی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ جب انسان حج کے دوران گناہوں، جھگڑوں اور شہوانی خواہشات سے بچتا ہے، تو اس کا دل پاک ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حج کے ان اخلاقی اصولوں کو اپنی پوری زندگی میں اپنائیں، تاکہ ہر وقت اللہ کی رضا کے حامل بن سکیں۔ یاد رکھیں، تقویٰ ہی وہ زاد ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کام آتا ہے، اور یہی وہ دولت ہے جو ہمیں اللہ کی محبت اور بخشش تک پہنچاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حج کے بہترین آداب سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 195-199 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 197
سورہ آیت 197/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 195–199. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








