بقرہ · 198/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ ۚ فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۖ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ ۝١٩٨
Laisa `alaikum junaahun an tabtaghoo fad lam mir rabbikum; fa izaaa afadtum min `Arafaatin fazkurul laaha `indal-Mash`aril Haraami waz kuroohu kamaa hadaakum wa in kuntum min qablihee laminad daaaleen
📖 اردو ترجمہ
اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو اور جب عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (یعنی مزدلفے) میں خدا کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا۔ اور اس سے پیشتر تم لوگ (ان طریقوں سے) محض ناواقف تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • جناح: گناہ، حرج، تنگی۔
  • تبتغوا: تلاش کریں، حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
  • فضل: رزق، تجارت کا نفع، اللہ کا فضل۔
  • أفضتم: روانہ ہوئے، واپس لوٹے (عرفات سے
  • مشعر الحرام: مزدلفہ، حرم والی جگہ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان اور شفیق ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے عبادت اور دنیا کے معاملات میں تنگی اور مشکل محسوس کریں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ حجاج کو یہ خوشخبری دیتا ہے کہ حج کے ایام میں تجارت کے ذریعے روزی حلال تلاش کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ یعنی حج کے دوران بھی آپ اپنے کاروبار یا تجارت سے منافع کما سکتے ہیں، یہ کوئی حرج یا گناہ کی بات نہیں۔ بلکہ یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ اپنے بندوں پر کرتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ حج کے ایک اہم رکن کی طرف رہنمائی فرماتا ہے: جب تم عرفات سے روانہ ہو کر مزدلفہ کی طرف آؤ، تو وہاں مشعر حرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو۔ یہ ذکر تسبیح، تہلیل، تکبیر اور دعا کے ذریعے ہو۔ یعنی عرفات سے واپسی پر مزدلفہ میں رات گزارنا اور وہاں اللہ کا ذکر کرنا حج کا ایک اہم حصہ ہے۔

اللہ تعالیٰ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اے لوگو! تم اللہ کا ذکر اس طرح کرو جس طرح اس نے تمہیں ہدایت دی ہے۔ یعنی تم خود سے کوئی نیا طریقہ ایجاد نہ کرو، بلکہ اس طریقے پر چلو جو اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے ذریعے سکھایا ہے۔ اور یاد رکھو کہ تم اس ہدایت سے پہلے گمراہی میں تھے، اللہ کے احکام اور اس کی عبادت کے طریقوں سے ناواقف تھے۔ اس لیے اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں سیدھا راستہ دکھایا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، یہ نہ تو عبادت کو چھوڑ کر صرف دنیا میں مشغول ہونے کا کہتا ہے اور نہ ہی دنیا کو ترک کر کے صرف عبادت میں پڑے رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ بلکہ اسلام تو اعتدال اور توازن کا دین ہے۔ حج جیسی عظیم عبادت کے دوران بھی اللہ نے تجارت کی اجازت دی تاکہ لوگوں کو یہ سکھایا جا سکے کہ دین اور دنیا میں کوئی تضاد نہیں۔ ایک مسلمان عبادت بھی کرتا ہے اور اپنی دنیاوی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔

یہ آیت ہمیں اللہ کی رحمت اور محبت کا احساس دلاتی ہے جو اپنے بندوں پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ نیز یہ کہ اللہ کا ذکر صرف زبان سے نہیں بلکہ دل سے اور اس طرح ہونا چاہیے جیسا اس نے سکھایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کی ہدایت پر چلتے رہیں، کیونکہ ہدایت سے پہلے ہم گمراہ تھے اور اللہ کے فضل سے ہی ہمیں سیدھا راستہ ملا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 196-200 — بقرہ

196وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۚ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۖ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ۚ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
اور خدا (کی خوشنودی) کے لئے حج اور عمرے کو پورا کرو۔ اور اگر (راستےمیں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو) اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ۔ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈالے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو کرے۔ اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو۔ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل وعیال مکے میں نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے
197الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ
حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زاد راہ (کا) پرہیزگاری ہے اور اے اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو
198لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ ۚ فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۖ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ
اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو اور جب عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (یعنی مزدلفے) میں خدا کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا۔ اور اس سے پیشتر تم لوگ (ان طریقوں سے) محض ناواقف تھے
199ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے
200فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ۗ فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ
پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کرچکو تو (منیٰ میں) خدا کو یاد کرو۔ جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دنیا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
198آیت

ترجمہ — بقرہ 198

سورہ بقرہ آیت 198 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں…

سورہ آیت 198/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 196–200. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں