بقرہ · 222/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡمَحِيضِۖ قُلۡ هُوَ أَذًى فَٱعۡتَزِلُواْ ٱلنِّسَآءَ فِي ٱلۡمَحِيضِ وَلَا تَقۡرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطۡهُرۡنَۖ فَإِذَا تَطَهَّرۡنَ فَأۡتُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ أَمَرَكُمُ ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلتَّوَّٰبِينَ وَيُحِبُّ ٱلۡمُتَطَهِّرِينَ  ۝٢٢٢
Wa yas`aloonaka `anil maheedi qul huwa azan fa`tazilun nisaaa`a fil maheedi wa laa taqraboo hunna hattaa yathurna fa-izaa tathharna faatoohunna min haisu amarakumul laah; innallaaha yuhibbut Tawwaabeena wa yuhibbul mutatahhireen
📖 اردو ترجمہ
اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ تو نجاست ہے۔ سو ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ۔ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • المحیض: حیض کا خون، جو عورت کے رحم سے مخصوص ایام میں نکلتا ہے۔
  • أذى: گندگی اور تکلیف دہ چیز۔
  • فاعتزلوا: الگ رہو، یعنی جماع سے پرہیز کرو۔
  • حتى يطهرن: جب تک خون بند نہ ہو جائے۔
  • تطهرن: غسل کر لیں۔
  • التوابین: بار بار توبہ کرنے والے۔
  • المتطهرین: پاکیزگی اختیار کرنے والے۔

تفسیر آیت:

اے نبی! لوگ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ کیا حیض کی حالت میں عورت سے جماع کرنا جائز ہے؟ آپ انہیں جواب دیں کہ حیض ایک گندگی اور تکلیف دہ چیز ہے، جو نہ صرف عورت کے لیے باعثِ اذیت ہے بلکہ اس سے قربت اختیار کرنے والے مرد کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ حیض کے ایام میں عورتوں سے جماع سے الگ رہو، یعنی اس مدت میں مباشرت نہ کرو۔ یہ حکم اس وقت تک جاری رہے گا جب تک خون بند نہ ہو جائے۔ جب خون بند ہو جائے اور عورت غسل کر کے پاک ہو جائے، تو پھر اس طریقے سے جماع کرو جس طرح اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے، یعنی قبل (فرج) کے راستے سے، نہ کہ دبر سے۔

اللہ تعالیٰ ان بندوں سے محبت کرتا ہے جو گناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور اپنی زندگی کو پاکیزہ بناتے ہیں، اور ان سے بھی محبت کرتا ہے جو ظاہری اور باطنی نجاستوں سے پاک رہتے ہیں۔ یہ حکم دراصل مسلمانوں کے لیے رحمت ہے، کیونکہ اللہ نے انہیں ایسی چیز سے بچایا جو جسمانی اور روحانی طور پر نقصان دہ ہے، اور انہیں صفائی اور پاکیزگی کی راہ دکھائی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو انسان کی جسمانی اور روحانی صحت دونوں کا خیال رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں اعتدال اور پاکیزگی کو پسند فرمایا ہے۔ جس طرح حیض کے ایام میں پرہیز کا حکم دیا گیا، اسی طرح ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کے احکام پر عمل کریں، کیونکہ انہیں میں ہماری بھلائی اور کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی غلطیوں پر فوراً توبہ کریں اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کی محبت حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ تقویٰ اور طہارت ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 220-224 — بقرہ

220فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۗ وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡيَتَٰمَىٰۖ قُلۡ إِصۡلَاحٌ لَّهُمۡ خَيۡرٌۖ وَإِن تُخَالِطُوهُمۡ فَإِخۡوَٰنُكُمۡۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ ٱلۡمُفۡسِدَ مِنَ ٱلۡمُصۡلِحِۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَأَعۡنَتَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ 
(یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو) ۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکھٹا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بےشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
221وَلَا تَنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكَٰتِ حَتَّىٰ يُؤۡمِنَّۚ وَلَأَمَةٌ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٌ مِّن مُّشۡرِكَةٍ وَلَوۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡۗ وَلَا تُنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤۡمِنُواْۚ وَلَعَبۡدٌ مُّؤۡمِنٌ خَيۡرٌ مِّن مُّشۡرِكٍ وَلَوۡ أَعۡجَبَكُمۡۗ أُوْلَٰٓئِكَ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ وَٱللَّهُ يَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱلۡجَنَّةِ وَٱلۡمَغۡفِرَةِ بِإِذۡنِهِۦۖ وَيُبَيِّنُ ءَايَٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ 
اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کو زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں
222وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡمَحِيضِۖ قُلۡ هُوَ أَذًى فَٱعۡتَزِلُواْ ٱلنِّسَآءَ فِي ٱلۡمَحِيضِ وَلَا تَقۡرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطۡهُرۡنَۖ فَإِذَا تَطَهَّرۡنَ فَأۡتُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ أَمَرَكُمُ ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلتَّوَّٰبِينَ وَيُحِبُّ ٱلۡمُتَطَهِّرِينَ 
اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ تو نجاست ہے۔ سو ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ۔ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے
223نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّكُمۡ فَأۡتُواْ حَرۡثَكُمۡ أَنَّىٰ شِئۡتُمۡۖ وَقَدِّمُواْ لِأَنفُسِكُمۡۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُم مُّلَٰقُوهُۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ 
تمہاری عورتیں تمہارای کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ۔ اور اپنے لئے (نیک عمل) آگے بھیجو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو بشارت سنا دو
224وَلَا تَجۡعَلُواْ ٱللَّهَ عُرۡضَةً لِّأَيۡمَٰنِكُمۡ أَن تَبَرُّواْ وَتَتَّقُواْ وَتُصۡلِحُواْ بَيۡنَ ٱلنَّاسِۚ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 
اور خدا (کے نام کو) اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اورپرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
222آیت

ترجمہ — بقرہ 222

سورہ آیت 222/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 220–224. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں