ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان مومنوں کی صفات بیان فرمائی ہیں جنہیں زمین میں اقتدار اور حکومت کا وعدہ دیا گیا ہے۔
معانی الفاظ:
- مکّنّاهم: ہم نے انہیں اقتدار اور طاقت دی، زمین میں جگہ دی
- أقاموا الصلاة: نماز کو قائم کیا، یعنی اسے پوری پابندی سے ادا کیا
- آتوا الزکاة: زکوٰۃ دی، اسے ادا کیا
- المعروف: ہر وہ کام جو شرع اور عقل کے مطابق اچھا ہو
- المنکر: ہر وہ کام جسے شرع اور عقل برا قرار دے
- عاقبة الأمور: تمام معاملات کا انجام اور نتیجہ
تفسیر:
اللہ رب العزت اس آیت میں ان مبارک لوگوں کا تعارف کرا رہے ہیں جنہیں زمین میں حکومت اور اقتدار عطا کیا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جب اللہ کی طرف سے عزت و اقتدار پاتے ہیں، تو یہ اقتدار ان کے لیے فخر اور تکبر کا ذریعہ نہیں بنتا، بلکہ یہ ان کے لیے اللہ کی عبادت اور بندوں کی خدمت کا ذریعہ بنتا ہے۔
ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔ یعنی صرف نماز پڑھتے ہی نہیں بلکہ اسے قائم کرتے ہیں، اس کے تمام آداب، شرائط اور خشوع و خضوع کے ساتھ اسے ادا کرتے ہیں، اور دوسروں کو بھی نماز کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ نماز کو صرف ایک رسم نہیں سمجھتے بلکہ اسے زندگی کا نظام بناتے ہیں۔
دوسری صفت یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ یعنی اپنے مال میں سے اللہ کا حق نکالتے ہیں اور اسے مستحقین تک پہنچاتے ہیں۔ وہ مال کو اللہ کا عطیہ سمجھتے ہیں اور اس میں سے اللہ کے بندوں کا حق ادا کرتے ہیں۔
تیسری صفت یہ ہے کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں۔ یعنی معاشرے میں بھلائی کو فروغ دیتے ہیں، لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتے ہیں، اور اچھے کاموں کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ برائی سے روکتے ہیں۔ یعنی معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، ظلم و ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں، اور منکرات کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمام معاملات کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ یعنی اقتدار اور حکومت چاہے کسی کو بھی ملے، آخر میں فیصلہ اللہ ہی کا ہوتا ہے۔ یہ بات مومنین کو اس بات کی تلقین کرتی ہے کہ وہ اپنے اقتدار پر نازاں نہ ہوں، بلکہ یہ سمجھیں کہ یہ اللہ کی امانت ہے، اور انہیں اس امانت کو ادا کرنا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام صرف عبادت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ جب مسلمان طاقت اور اقتدار پاتے ہیں تو ان کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت قائم کریں، معاشرے میں انصاف پھیلائیں، اور برائیوں کا خاتمہ کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو کسی قوم کو عزت اور کامیابی دیتا ہے۔
آج اگر ہم مسلمان چاہتے ہیں کہ ہمیں زمین میں عزت اور اقتدار ملے، تو ہمیں انہیں صفات کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں اپنی نمازوں کو قائم کرنا ہوگا، اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی، معاشرے میں نیکی کو فروغ دینا ہوگا اور برائی سے روکنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی مدد اور نصرت تک پہنچائے گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان صفات کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 39-43 — حج
ترجمہ — حج 41
سورہ حج آیت 41 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک…سورہ آیت 41/78 — حج الحج (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حج سنیں, حج ترجمہ, حج mp3, حج pdf. آیت 39–43. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








