ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صَوَامِعُ: راہبوں کی عبادت گاہیں (خانقاہیں)
- بِيَعٌ: نصاریٰ کے گرجا گھر (کلیسے)
- صَلَوَاتٌ: یہود کی عبادت گاہیں (کنیسیں)
- دِيَارِهِم: ان کے گھر، وطن
تفسیرِ آیہ:
یہ آیتِ کریمہ ان مظلوم مہاجرینِ اسلام کے بارے میں نازل ہوئی جنہیں کفارِ قریش نے محض اس جرم کی پاداش میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا کہ انہوں نے کلمۂ توحید پڑھ کر کہا: "ہمارا رب صرف اللہ ہے۔" انہوں نے کوئی ظلم نہیں کیا تھا، کوئی حق تلفی نہیں کی تھی، نہ کوئی جرمِ سیاسی کیا تھا — ان کا واحد قصور یہ تھا کہ انہوں نے ایک اللہ کی عبادت کا اعلان کیا اور بتوں سے بیزاری کا اظہار کیا۔ یہ ہے ظلم کی انتہا کہ انسان کو اس کے ایمان کی وجہ سے بے گھر کر دیا جائے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکمت کو بیان فرمایا کہ اگر وہ اپنے بندوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا — یعنی ظالموں کو مظلوموں کے ہاتھوں روکتا نہ — تو زمین پر فساد پھیل جاتا اور عبادت گاہیں تباہ ہو جاتیں۔ راہبوں کی خانقاہیں، نصاریٰ کے کلیسے، یہود کی کنیسیں اور مسلمانوں کی مساجد — جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے — سب مسمار کر دیے جاتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جہاد اور دفاعِ حق صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو اجازت دی کہ وہ ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تاکہ دینِ حق اور عبادت گاہیں محفوظ رہیں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا: جو شخص اللہ کے دین کی نصرت کرے گا، اللہ ضرور اس کی مدد فرمائے گا۔ یہ سنہرا وعدہ ہے جو ہر مسلمان کے دل میں امید اور حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قوی ہے — اس کی طاقت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں — اور عزیز ہے — اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا۔ جب خالقِ کائنات خود مددگار ہو تو پھر کس کا ڈر؟ کس کا خوف؟
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ اول یہ کہ ایمان کی راہ میں قربانیاں دینی پڑتی ہیں، اور یہ قربانیاں اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ کی مدد کا وعدہ انہی لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کے دین کی مدد کرتے ہیں — یعنی اپنے اعمال، اخلاق، دعوت اور جدوجہد سے۔ تیسرے یہ کہ امن و سلامتی اور عبادت کی آزادی صرف اللہ کے فضل سے قائم رہتی ہے، اور یہ فضل اس وقت نازل ہوتا ہے جب اہلِ حق باطل کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔ آج بھی جب ہم مسلمانوں کو مظلوم دیکھتے ہیں — فلسطین، کشمیر، برما اور دیگر مقامات پر — تو یہ آیت ہمیں صبر، استقامت اور اللہ پر بھروسہ کا درس دیتی ہے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے، وہ اپنے دین کو ضرور غالب کرے گا، چاہے کفار کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان پر قائم رہیں، اپنے دین کی خدمت کریں، اور یقین رکھیں کہ فتح صرف اللہ کی طرف سے ہے۔
📜 آیت 38-42 — حج
ترجمہ — حج 40
سورہ حج آیت 40 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال…سورہ آیت 40/78 — حج الحج (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حج سنیں, حج ترجمہ, حج mp3, حج pdf. آیت 38–42. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








