اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُطِعِ: اطاعت کرے، حکم مانے۔
یَخْشَ: ڈرے، خوف کھائے۔
یَتَّقْہِ: پرہیزگاری اختیار کرے، گناہوں سے بچے۔
الْفَائِزُونَ: کامیاب ہونے والے، نجات پانے والے۔
تفسیر:
اس مبارک آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کامیابی کا وہ سنہرا راستہ دکھایا ہے جو انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو کرنے والا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے، یعنی اللہ کے احکام کو بجالائے اور اس کے منع کردہ کاموں سے رکے، اور جو شخص اللہ سے اس طرح ڈرے کہ اس کے دل میں عظمتِ الٰہی کا خوف ہو اور وہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو، اور جو شخص تقویٰ اختیار کرے یعنی اپنی پوری زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق ڈھال لے، آنے والے وقت میں بھی گناہوں سے بچتا رہے، تو ایسے لوگ حقیقی کامیاب ہیں۔
یہ کامیابی صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ وہ عظیم کامیابی ہے جو جنت کے ابدی نعیم تک پہنچاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف اطاعت کا حکم نہیں دیا بلکہ خشیت اور تقویٰ کا بھی ذکر فرمایا، کیونکہ محض ظاہری اطاعت کافی نہیں، دل کا خوف اور اندرونی پرہیزگاری بھی ضروری ہے۔ یہی وہ تین عناصر ہیں جو ایک مومن کو مکمل بناتے ہیں: اللہ کا حکم ماننا، اس کے عذاب سے ڈرنا، اور اس کی نافرمانی سے بچنا۔
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ کامیابی کا راز کوئی دور کی چیز نہیں، بلکہ ہمارے اپنے اعمال میں پوشیدہ ہے۔ جب ہم اللہ کی اطاعت کریں گے، اس سے ڈریں گے اور تقویٰ اختیار کریں گے تو اللہ ہمیں وہ عزت اور کامیابی عطا فرمائے گا جو دنیا کی کوئی طاقت نہیں دے سکتی۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر صحابہ کرام نے دنیا کو فتح کیا اور آخرت کی کامیابی بھی حاصل کی۔ آئیے ہم بھی اس راستے کو اپنائیں، اپنے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کریں، اپنے اعمال کو سنواریں، اور اس وعدہ الٰہی پر یقین رکھیں کہ جو شخص یہ تین چیزیں اپنا لے، وہ یقیناً کامیاب ہے۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں۔ کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ، پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) ۔ بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو۔ اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا رستہ پالو گے اور رسول کے ذمے تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔