Wa aqsamoo billaahi jahda aimaanihim la`in amartahum la yakhrujunna qul laa tuqsimoo taa`atum ma`roofah innal laaha khabeerum bimaa ta`maloon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں۔ کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ، پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) ۔ بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
به خدا قسم خوردند، قسمهاى سخت، كه اگر به آنها فرمان دهى از ديار خود بيرون روند. بگو: قسم مخوريد، طاعتى در خور بياوريد. خدا به كارهايى كه مىكنيد آگاه است.
اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں۔ کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ، پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) ۔ بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ: اپنی قسمیں پوری کوشش اور سختی کے ساتھ کھانا، یعنی انتہائی مضبوط اور پکی قسمیں کھانا۔
لَئِنْ أَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ: اگر آپ انہیں حکم دیں گے تو وہ ضرور (جہاد کے لیے) نکلیں گے۔
طَاعَةٌ مَّعْرُوفَةٌ: معروف اور معلوم طاعت، یعنی ایسی اطاعت جو زبان سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہو۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ منافقین کے اس رویے کا پردہ فاش فرماتا ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اختیار کرتے تھے۔ یہ لوگ بڑی شدت اور تاکید کے ساتھ اللہ کے نام کی قسمیں کھاتے تھے کہ اگر آپ ﷺ انہیں جہاد کا حکم دیں گے تو وہ ضرور آپ کے ساتھ نکلیں گے اور آپ کا ساتھ دیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان سے فرما دیں: "قسمیں نہ کھاؤ" یعنی تمہاری قسمیں جھوٹی اور بے حقیقت ہیں، کیونکہ تمہاری اطاعت صرف زبانی ہے، تمہارے دلوں میں نفاق اور کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "طَاعَةٌ مَّعْرُوفَةٌ" یعنی تمہاری اطاعت کا انداز معروف ہونا چاہیے، ایسی اطاعت جو عمل سے ثابت ہو، نہ کہ صرف زبان سے دعوے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی مکمل خبر ہے، وہ جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے، تمہارے ظاہر اور باطن میں کتنا فرق ہے، اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کا پورا بدلہ دے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ایمان کا دعویٰ زبان سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہوتا ہے۔ ایک سچا مسلمان وہ ہے جس کا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہو، جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو صرف زبانی دعووں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے اعمال سے ثابت کریں کہ ہم واقعی اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اس کے رسول ﷺ کے فرمانبردار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے باخبر ہے، کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو نفاق سے پاک کریں اور خلوص کے ساتھ اللہ کی اطاعت کریں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ نیک اعمال کو قبول فرماتا ہے، نہ کہ خالی دعووں کو۔
مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں۔ کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ، پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) ۔ بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو۔ اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا رستہ پالو گے اور رسول کے ذمے تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے
جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم وپائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔