Qaalal lazee indahoo `ilmum minal Kitaabi ana aateeka bihee qabla ai yartadda ilaika tarfuk; falammaa ra aahu mustaqirran `indahoo qaala haazaa min fadli Rabbee li yabluwaneee `a-ashkuru am akfuru wa man shakara fa innamaa yashkuru linafsihee wa man kafara fa inna Rabbee Ghaniyyun Kareem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
ایک شخص جس کو کتاب الہیٰ کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کئے دیتا ہوں۔ جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و آن كس كه از علم كتاب بهرهاى داشت گفت: من، پيش از آنكه چشم بر هم زنى، آن را نزد تو مىآورم. چون آن را نزد خود ديد، گفت: اين بخشش پروردگار من است، تا مرا بيازمايد كه سپاسگزارم يا كافر نعمت. پس هر كه سپاس گويد براى خود گفته است و هر كه كفران ورزد پروردگار من بىنياز و كريم است.
ایک شخص جس کو کتاب الہیٰ کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کئے دیتا ہوں۔ جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ: اس شخص کے پاس کتابِ الٰہی (لوحِ محفوظ) کا علم تھا۔
یَرْتَدَّ إِلَیْکَ طَرْفُکَ: تمہاری آنکھ کا پلٹنا، یعنی پلک جھپکنے کا وقت۔
مُسْتَقِرًّا: حاضر، قائم، اپنی جگہ پر رکھا ہوا۔
لِیَبْلُوَنِی: تاکہ وہ میرا امتحان لے۔
أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ: کیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔
تفسیر:
جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے دربار میں یہ فرمایا کہ ان میں سے کون ملکہ سبا کا تخت لے کر آ سکتا ہے، تو ایک نیک اور صالح شخص، جسے کتابِ الٰہی کا علم تھا اور اسے اسمِ اعظم کا علم حاصل تھا، نے عرض کیا: "میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے کہ آپ کی پلک جھپکے۔" یہ کہہ کر اس نے اللہ سے دعا کی، اور اللہ کے حکم سے وہ عرش ایک پل میں حاضر ہو گیا۔ جب حضرت سلیمان نے اسے اپنے پاس قائم اور حاضر دیکھا تو انہوں نے فوراً یہ اعتراف کیا: "یہ میرے رب کا فضل ہے، جو اس نے مجھ پر کیا ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔" پھر انہوں نے ایک اہم حقیقت بیان فرمائی: جو شخص اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، اس کا فائدہ خود اسی کو پہنچتا ہے، کیونکہ شکر نعمت کو باقی رکھتا ہے اور مزید نعمتوں کا ذریعہ بنتا ہے۔ اور جو شخص ناشکری کرتا ہے، تو اللہ اس کی ناشکری سے قطعاً بے نیاز ہے، کیونکہ اللہ غنی ہے اور کرم کرنے والا ہے، وہ اپنے فضل سے شکر گزار اور ناشکر دونوں کو دنیا میں نعمتیں دیتا ہے، لیکن آخرت میں ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔
دعوتی انداز:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں کبھی کسی کی ذات کی وجہ سے نہیں ملتیں، بلکہ یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے عظیم نبی نے بھی یہ اعتراف کیا کہ یہ سب میرے رب کا فضل ہے، تو ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی کامیابیوں اور نعمتوں کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کریں، نہ کہ اپنے آپ پر نازاں ہوں۔ شکر کرنے سے اللہ کی نعمتیں بڑھتی ہیں، اور ناشکری سے نعمتیں زائل ہو جاتی ہیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ ہماری عبادت اور شکر کا محتاج نہیں، بلکہ ہم خود اپنے شکر سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اللہ غنی ہے، کرم کرنے والا ہے، اور وہ اپنے بندوں کو رزق دیتا ہے چاہے وہ شکر کریں یا نہ کریں، لیکن آخرت میں حساب و کتاب ضرور ہوگا۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں شکرگزاری کو اپنا شیوہ بنائیں، تاکہ اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہم پر نازل ہوتی رہیں۔
جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں
ایک شخص جس کو کتاب الہیٰ کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کئے دیتا ہوں۔ جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے
جب وہ آ پہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت شان) کا علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔