Qaala `ifreetum minal jinni ana aateeka bihee qabla an taqooma mim maqaamika wa innee `alaihi laqawiyyun ameen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
عفريتى از ميان جنها گفت: من، قبل از آنكه از جايت برخيزى، آن را نزد تو حاضر مىكنم، كه من بر اين كار هم توانايم و هم امين.
جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
عِفْرِیت: طاقتور، زبردست اور چالاک جن۔
مِنَ الْجِنِّ: جنوں میں سے۔
مَقَامِکَ: آپ کی مجلس، بیٹھنے کی جگہ۔
لَقَوِیٌّ أَمِین: بے شک میں طاقتور ہوں، امانت دار ہوں۔
تفسیر:
جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے عدالت کے دوران ملکہ سبا کا تخت منگوایا اور کہا کہ تم میں سے کون اسے لے کر آئے گا، تو جنوں میں سے ایک طاقتور اور چالاک جن نے فوراً جواب دیا: "میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں۔" اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اتنی جلدی یہ کام کر سکتا ہے کہ آپ کے بیٹھنے کے دوران ہی تخت حاضر ہو جائے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ "میں اس تخت کو اٹھانے پر پوری طرح قادر ہوں اور اس کی حفاظت کا امین ہوں، یعنی میں اس میں سے کوئی چیز کم نہیں کروں گا، نہ اسے بدلوں گا، نہ اسے نقصان پہنچاؤں گا، بلکہ اسے اس کی اصلی حالت میں سلامت لے آؤں گا۔"
یہ ایک عظیم جن تھا جو اپنی طاقت اور امانت داری پر بھروسہ رکھتا تھا، لیکن پھر بھی اس نے ایک حد تک بات کی۔ اس کے بعد ایک اور شخص (حضرت آصف بن برخیا) نے کہا کہ میں اسے پلک جھپکنے سے بھی پہلے لے آؤں گا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت اور اس کے نیک بندوں کی روحانی طاقت جنوں کی مادی طاقت سے کہیں بڑھ کر ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کو بھی انسانوں کی طرح طاقت اور صلاحیتیں عطا کی ہیں، لیکن اصل کمال ایمان اور اللہ کی مدد سے حاصل ہوتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عدالت میں جنوں کا حاضر ہونا اور ان کا اپنی طاقت کا اظہار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کے تابع مخلوقات بھی ہو جاتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی صلاحیتوں کو اللہ کی اطاعت اور نیکی کے کاموں میں استعمال کریں، اور امانت داری کو اپنا شعار بنائیں، کیونکہ امانت داری اور طاقت کا صحیح استعمال ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ کی قدرت کے آگے ہر طاقت چھوٹی ہے، اور جو لوگ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں، اللہ انہیں ایسے ذرائع فراہم کرتا ہے جو عقل سے باہر ہوتے ہیں۔
جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں
ایک شخص جس کو کتاب الہیٰ کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کئے دیتا ہوں۔ جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔