ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَیْکَأَنَّ: یہ دو الفاظ ہیں "وَیْ" اور "کَأَنَّ"۔ "وَیْ" تعجب، حسرت اور ندامت کے لیے آتا ہے، اور "کَأَنَّ" یہاں تشبیہ کے معنی سے خالی ہو کر تحقیق کے لیے آیا ہے، یعنی "کیا یہ حقیقت نہیں کہ..."
- یَبْسُطُ الرِّزْقَ: رزق کو کشادہ کرتا ہے، وسعت دیتا ہے۔
- یَقْدِرُ: تنگی کرتا ہے، محدود کرتا ہے۔
- لَوْلَا أَن مَّنَّ اللَّهُ عَلَیْنَا: اگر اللہ کا ہم پر احسان نہ ہوتا۔
- لَخَسَفَ بِنا: ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔
- لَا یُفْلِحُ الْکَافِرُونَ: کافر کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
تفسیر:
یہ وہ لمحہ ہے جب قارون کو اس کے گھر سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ وہ لوگ جو کل تک اس کی دولت و شان و شوکت کو دیکھ کر تمنائیں کر رہے تھے کہ "کاش ہمیں بھی وہ سب ملتا جو قارون کو ملا ہے"، آج صبح اٹھتے ہی اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھتے ہیں جو ان کے تصور سے بھی باہر تھا۔ ان کے دلوں پر خوف اور حسرت چھا جاتی ہے، اور وہ زبان سے یہ کہنے لگتے ہیں: "کیا یہ حقیقت نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے تنگی دیتا ہے؟"
وہ اب سمجھ گئے کہ دولت اور رزق کی فراوانی اللہ کی رضا کی علامت نہیں، اور نہ ہی تنگی اس کی ناراضی کی دلیل ہے۔ یہ سب اس کی حکمت اور مشیت پر مبنی ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں: "اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا کہ ہمیں وہ تمنائیں پوری نہ ہونے دیں جو ہم کل کر رہے تھے، تو ہمیں بھی اسی طرح زمین دھنسا دیتی جیسا کہ قارون کو دھنسا دیا۔" انہیں اب یہ سمجھ آ گئی کہ جو چیز انہوں نے اپنے لیے بھلائی سمجھی تھی، وہ دراصل ان کی تباہی کا سبب بن سکتی تھی۔ اللہ کا احسان تھا کہ اس نے انہیں وہ دولت نہ دی جو ان کی آزمائش بن جاتی۔
اور آخر میں وہ خود ہی اعتراف کر لیتے ہیں: "کیا یہ حقیقت نہیں کہ کافر کبھی کامیاب نہیں ہوتے؟" یعنی قارون نے اللہ کی نعمتوں کا کفران کیا، اپنی دولت کو اپنی محنت کا نتیجہ سمجھا اور اللہ کا شکر ادا نہ کیا، اس لیے وہ دنیا میں بھی رسوا ہوا اور آخرت میں بھی اس کے لیے عذاب ہے۔ کفرانِ نعمت کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاتے، چاہے دنیا میں ان کے پاس کتنا ہی مال و زر کیوں نہ ہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم کبھی کسی کی دنیاوی خوش حالی کو دیکھ کر اپنے حال پر ناراض نہ ہوں، اور نہ ہی یہ تمنّا کریں کہ ہمیں بھی وہی کچھ ملے جو دوسروں کو ملا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو دیتا ہے اپنی حکمت سے دیتا ہے، اور جو نہیں دیتا اس میں بھی ہمارے لیے بھلائی ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے رب پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور اس کے فیصلوں پر راضی رہنا چاہیے۔ یاد رکھیں! اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا کبھی نقصان میں نہیں رہتا، اور ناشکری کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ آئیے ہم اپنے دل سے حسد اور تمناؤں کو نکالیں، اور اللہ کی عطا پر قناعت اور شکر کا دامن تھام لیں۔ یہی فلاح کا راستہ ہے، اور یہی ہماری کامیابی کی کنجی ہے۔
📜 آیت 80-84 — قصص
ترجمہ — قصص 82
سورہ قصص آیت 82 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور وہ لوگ جو کل اُس کے رتبے کی تمنا…سورہ آیت 82/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 80–84. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








